’دہشتگردی کیمپ تباہ کیے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس نے افغانستان کے ساتھ اپنے سرحدی علاقے میں کاروائی کر کے بڑی تعداد میں اسلحہ و بارود کو قبضہ میں لے لیا ہے اور دہشت گردی کی تربیت دینے کے کئی مراکز کو تباہ کر دیا ہے۔ پاکستان فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج نے جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی سرحد کے قریب ایک بڑے آپریشن میں دہشت گردی کی تربیت دینے والے مراکز کو ختم کر دیا ہے۔ اور وہاں سے اسلحہ کی ایک بڑی تعداد برآمد کی ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق عبداللہ محسود کے گروہ کے زیر استعمال ایک ایسی سہولت کوبھی تباہ کیا ہے جہاں باغیوں کو نشانہ بہتر بنانے کی تربیت دی جاتی تھی۔ عبداللہ محسود افغانستان میں امریکی فوج کے آنے کے بعد گوانتانامو بے میں قیدی رہے ہیں۔ عبداللہ محسود کے ساتھیوں نے جنوبی وزیرستان میں تعمیر کیے جانے والے ڈیم پر کام کرنے والے دو چینی انجینئروں کو اغوا کیا تھا۔پاکستان فوج کے آپریشن کے دوران ایک چینی انجینئر ہلاک کر د یا گیاتھا جبکہ ایک کو زندہ بچا لیا گیا تھا۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ اس عبداللہ محسود کے زیر استعمال ایک گاڑی اورایک پرنٹنگ پریس کو بھی قبضہ میں لے لیا گیا ہے۔ فوج کے مطابق اس پرنٹنگ پریس میں پاکستان فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے مواد چھاپا جاتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||