جنوبی وزیرستان میں جھڑپیں جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ کاروان مانزہ کے علاقے میں مبینہ شدت پسندوں کے ایک فوجی مورچے پر حملے میں ایک فوجی ہلاک ہوا ہے جبکہ شمالی وزیرستان میں بھی ایک فوجی قافلے پر ریمورٹ کنٹرول بم حملے میں تین فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی دستوں اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام کے مطابق آج صبح ایک تازہ جھڑپ میں نامعلوم افراد کی جانب سے داغا گیا ایک راکٹ ایک فوجی مورچے پر گرا جس سے ایک فوجی ہلاک ہوا ہے۔ جمعرات کی شب کوٹکی کے علاقے میں بھی جھڑپ ہوئی ہے البتہ اس میں کسی جانی نقصان کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ ادھر شمالی وزیرستان میں بھی آج بارہ بجے کے قریب بنوں شہر سے رزمک جا نے والے ایک فوجی قافلے کے راستے میں نصب ریمورٹ کنٹرول بم کے دھماکے سے تین فوجی زخمی ہوئے ہیں جبکہ ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق فوجیوں کی جوابی فائرنگ سے ایک افغان شخص ہلاک جبکہ مسافر گاڑی میں سوار ایک بارہ سالہ بچی اور ایک بچہ زخمی ہوئے ہیں۔ واقعے کے فورًا بعد مقامی انتظامیہ کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور تفتیش شروع کر دی البتہ آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔ شمالی وزیرستان قدرے پرامن تصور کیا جاتا ہے لیکن فوجیوں پر اکا دکا حملوں کے واقعات یہاں بھی پیش آتے رہتے ہیں۔ منگل کے روز جنوبی وزیرستان کے شیخ زیارت گاؤں میں ایک جرگے پر بمباری کے بعد سے علاقے میں مبینہ عسکریت پسندوں کی تلاش کا کام بھی روک گیا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ حکومت یہ آپریشن کب دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||