BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 February, 2005, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امن معاہدے میں شامل نہیں ہیں‘

عبداللہ محسود
عبداللہ محسود چینی انجینئیروں کے اغوا میں ملوث تھے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکومت کو دو چینی انجینروں کے اغوا میں مطلوب محسود جنگجو عبداللہ محسود کا کہنا ہے کہ بیت اللہ کے حکومت کے ساتھ امن معاہدے سے ان کی مسلح جدوجہد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلفون پر بات کرتے ہوئے قبائلی جنگجو عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہر شخص کی اپنی سوچ ہوتی ہے اور بیت اللہ کا فیصلہ اn کا ہے اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’یہ معاہدہ بیت اللہ بھائی نے اپنی ذمہ داری پر کیا ہے۔ اس میں ہم شامل نہیں ہیں۔ ہماری سوچ ہے کہ ہم انشا اللہ حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔’

ایک سوال کے جواب میں کیوبا میں امریکی جیل میں ڈیڑھ برس تک قید کاٹنے والے عبداللہ محسود نے بیت اللہ کے ساتھ اختلافات کے تاثر کو رد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اختلاف کی بات نہیں صرف سوچ کا فرق ہے۔

’ہم پاکستان سے امریکی فوجوں کی واپسی اور ملک میں شریعت کے نفاذ تک لڑتے رہیں گے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مشرف اور اس کے ساتھی غدار، ملک دشمن اور اسلام دشمن ہیں۔ ان کے خلاف جہاد انشا اللہ جاری رہے گا۔’

ستائیس سالہ عبداللہ کا کہنا تھا کے بیت اللہ یا کسی اور کے آنے جانے سے ان کی تحریک پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا موقف تھا کہ دین کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے۔

چینی انجینروں کے اغوا اور قتل کے بارے میں عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ ان کے جہاد کا حصہ تھا اور یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ ’اس پر معافی مانگنا ہم کفر سمجھتے ہیں۔ ہمارا جہاد بھی امریکہ کی دہشت گردی کی طرح عالمی ہے۔ جن لوگوں نے ہمارے لیے چین سے معافی کی اپیل کی ہے ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ہم معافی نہیں مانگیں گے اور اس کی جگہ شہادت کو لبیک کہیں گے۔‘

 وانا میں دو صحافیوں کے قتل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ انہوں نے یا ان کے جنگجوں نے نہیں کیا ہے۔

عبداللہ نے چین پر اپنے ملک میں مسلمانوں پر ظلم اور قتل عام کرنے کا الزام لگایا۔ ’اس پر کوئی آواز نہیں اٹھا رہا اور ایک چینی کی ہلاکت کو اتنا بڑا مسلہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کو ہم نے قتل بھی نہیں کیا وہ پاکستان حکومت کی کارروائی کی وجہ سے ہلاک ہوا تھا۔’

محسود جنگجو کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ سب اختیار امریکہ کا ہے۔ ’ان غداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے تک ہماری جنگ جاری رہے گی۔ ہم اس نظام کو نہیں مانتے تو پھر کیسے ان کی بات مان لیں۔ ان کے مطالبات کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔‘

وانا میں دو صحافیوں کے قتل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ انہوں نے یا ان کے جنگجوں نے نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اس کی ڈنکے کی چوٹ پر ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کام بھی حکومت نے انہیں بدنام کرنے کے لیے کیا ہے۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ عبداللہ کو بیت اللہ جیسی معافی دینے میں قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ البتہ ان کی کوشش ہے کہ یہ معاملہ بھی بات چیت کے ذریعے حل ہوجائے۔ تاہم عبداللہ کے اس انٹرویو سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی معاہدے کے حق میں نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد