جرگہ حکومت سے تصدیق کا منتظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جرگہ اراکین حکومت کی جانب سے اس امن معاہدے کی تصدیق کا انتظار کر رہے ہیں جس پر عمل درآمد کی یقین دہانی عسکریت پسندوں کے رہنما بیت اللہ محسود نے جرگے کو کرائی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں ایک قبائلی جرگے نے گزشتہ دنوں ایک نامعلوم مقام پر محسود علاقے میں جنگجوؤں کے سربراہ بیت اللہ محسود سے مذاکرات کیے تھے۔ اس بات چیت میں شامل جرگے کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں بیت اللہ محسود اپنے تمام ساتھیوں سمیت حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ البتہ اس معاہدے میں دو چینی انجینیئروں کے اغوا میں ملوث عبداللہ محسود شامل نہیں ہوں گے۔ ان کے بارے میں جرگہ اراکین کا کہنا ہے کہ انہیں علم نہیں وہ کہاں ہیں اور ان کے سامنے آنے کے بعد ہی ان سے نمٹا جائے گا۔ جس معاہدے پر بیت اللہ راضی ہوئے ہیں اس کی رو سے وہ حکومت کو طالبان یا القاعدہ کے ارکان کی مدد نہ کرنے اور پناہ نہ دینے کے علاوہ مستقبل میں سرکاری اہداف پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرایں گے۔ جواب میں وہ توقع کر رہے ہیں کہ حکومت ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لے لے گی۔ اس معاہدے کو کاغذی شکل دے کر پشاور میں حکام کی منظوری کے لیے بھیجا گیا ہے۔ منظور ہونے کے بعد سپنکئی رغزئی یا سراروغا کے علاقے میں شکئی معاہدے جیسی ایک تقریب منعقد ہونے کا امکان ہے۔ جرگہ ممبران کا کہنا تھا کہ بیت اللہ نے کافی کھلے دل سے مذاکرات میں حصہ لیا اور حکومت سے ان کے مکانات مسمار کرنے یا جانی نقصان کا معاوضہ تک مانگنے سے انکار کیا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے عسکریت پسندوں کو چھبیس جنوری تک ہتھیار ڈالنے کی مہلت دی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||