کراچی: فائرنگ سے امام مسجد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نےطارق روڈ کے علاقے میں ایک امام مسجد اور ان کے پولیس محافظ کو گولیاں مارکر ہلاک کردیا۔ واقعہ کے بعد آس پاس کی دکانیں بند ہوگئیں اور مشتعل لوگوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر آمدو رفت معطل کردی۔ ایس ایس پی انویسٹیگیشن نیاز کھوسو نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا ہارون قاسمی پولیس کی طرف سے فراہم کردہ محافظ عقیل الرحمٰن کے ہمراہ نماز ظہر ادا کرنے کے بعد پیدل اپنی رہائشگاہ کی طرف جا رہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ پولیس افسر کے مطابق واقعہ تھانہ فیروز آباد کی حدود میں واقع طارق روڈ پر پیش آیا۔ حملہ آوروں نے پہلے پولیس محافظ کو گولیاں مارکر ہلاک کیا اور ان کی سرکاری رائفل سے مولانا کو ہلاک کرکے فرار ہوگئے۔ حکام کے مطابق مولانا قاسمی کا تعلق کالعدم سپاہ صحابہ سے تھا۔ مقتول نے جامعہ کراچی سے اسلامیات میں ڈاکٹریٹ کر رکھا تھا۔ پولیس کے مطابق مقتول وکالت بھی کرتے تھے اور اپنی جماعت کی’ لیگل ایڈ‘ کمیٹی کے چیئرمین بھی تھے ۔ وہ مختلف الزامات میں قید کارکنوں کے مقدمات کی پیروی بھی کرتے تھے۔ پولیس حکام نے مزید کہا کہ اس بارے فی الوقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ واقعہ فرقہ وارانہ شدت پسندی کا نتیجہ ہے یا نہیں ۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور تعداد میں تین تھے اور سی جی 125 موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملہ آور پہلے سے تاک میں بیٹھے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||