ایک ہی خاندان کے سات افراد قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے ایک شہر سیالکوٹ میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے سات افراد کو پراسرار حالات میں قتل کر دیا گیا۔ اگوکی کے علاقے میں پیر کی رات پولیس نے محلہ داروں کی اطلاع پر ایک شخص عبدالغنی کے گھر کا تالہ توڑا تو اس کے اہلخانہ کی لاشیں گھر کے مختلف حصوں سے برآمد ہوئیں۔ صحن میں عبدالغنی کے جوان بیٹے وقار اور وقار کے دوست کامران کی لاشیں پڑی تھیں ۔ ایک کمرے میں عبدالغنی کی بیوی حمیداں اور دو رشتہ دار بچوں چار سالہ چاند اور نو سالہ صالح کی لاشیں تھیں جبکہ بالائی منزل میں اس کی ایم اے پاس بیٹی رخسانہ اور سالی رشیداں کی لاشیں خون میں لت پت پڑی ملیں۔ پولیس کے مطا بق تمام لاشیں تین چار روز پرانی معلوم ہوتی تھیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں یا تو عید کے روز یا اس سے ایک روز قبل ہلاک کیا گیا ہوگا۔ ڈی ایس پی ملک اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ لاشوں کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا تھا کہ مقتولین کو گولیاں بھی ماری گئیں ہیں اور کسی تیز دھار آلے کے وار بھی کیے گئے ہیں لیکن پوسٹ مارٹم سے قبل یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کتنے افراد گولیوں سے اور کتنے تیز دھار آلے کے وار سے ہلاک ہوئے ہیں۔ جائے وقوعہ سے ایک خون آلود چاقو اور چند کارتوس بھی برآمد ہوئے ہیں جو پولیس نے قبضے میں لے لیے ہیں۔ آخری اطلاعات آنے تک ملزموں کا سراغ مل سکا تھا نہ قتل کے محرک کا تعین ہوسکا۔ زندہ بچ جانے والے گھر کے سربراہ عبدالغنی کسی کام سے اپنے آبائی گاؤں قلعہ کالر والا پسرور گئے ہوئے تھے۔پولیس کی ایک ٹیم انہیں سیالکوٹ لانے کے لیے روانہ کر دی گئی۔ ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گردی اور ڈکیتی کی واردات نہیں ہے بلکہ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے ذاتی عداوت کا انتقام لیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||