سیالکوٹ: سوگ اور احتجاج جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےصوبے پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں مسجد زینیبیہ بم دھما کے کے تیسرے روز بھی شہر میں سوگ منایا گیا اور بازار بند رہے۔ شہر کے مختلف مقامات اور خاص طور پر امام بارگاہ کے ارد گرداب بھی فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ جمعہ کے روز شیعہ مسلمانوں کی زینبیہ مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں اکتیس افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اتوار کو اسی مسجد کے، جسے مستری عبداللہ کی امام بارگاہ بھی کہا جاتا ہے، سامنے ان کی رسم قل ادا کی گئی۔ اس مذہبی تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مسجد زینبیہ کےامام فیض علی کرپالوی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ ’وہ حکومت کو جمعہ تک کی مہلت دے رہے ہیں اور اگر جمعہ تک اس سانحہ کے ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو جمعہ کے روز ہی بھر پور احتجاج کیا جاۓ گا جس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔‘ رسم قل کے بعد شرکاء نے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس نے شہر کے مختلف بازاروں کا چکر لگایا یہ جلوس علامہ اقبال چوک پہنچ کر پر امن طور پر منتشر ہوگیا۔ جلوس کے ہمراہ پولیس کی بھاری نفری اور بکتر بند گاڑیاں بھی موجود تھیں۔ شہر میں بازار اور دکانیں بند ہیں تاہم مخلتف مقامات پر کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والی اکا دکا دکانیں کھلی ہیں۔ ادھر پولیس نے مسجد زنیبیہ کے امام فیض علی کرپالوی کے بیان پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کی تحریر سے یہ بظاہر خود کش حملہ معلوم ہوتا ہے۔ مدعی نے تحریر کرایا ہے کہ جمعہ کے روز بائیس تئیس سالہ نامعلوم نوجوان ایک بریف کیس سمیت مسجد میں داخل ہوا تھا اور چوتھی صف میں جاکر کھڑا ہوگیا اس نے اپنا بریف کیس کھولا ہی تھا کہ وہ ایک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے ایک بار پھر حکومت کے اس موقف کو دھرایا ہے کہ یہ حملہ ایک مبینہ شدت پسند امجد فاروقی کی پولیس مقابلہ میں ہلاکت کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||