مظفرآباد میں نماز جنازہ، مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر سید شوکت حسین نقوی کو سنیچر کے روز سپرد خاک کیا گیا۔ مسڑ نقوی جمعے کے روز سیالکوٹ شہر میں ایک امام بارگاہ میں ہونے والے بم حملے میں مارے گئے تھے۔ شوکت حسین نقوی کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نےشرکت کی۔ ان کی میت سنیچر کے روز مظفرآباد ان کے گھر لائی گئی تھی۔ اس موقع پر شہر مظفرآباد میں نقوی اور دیگر لوگوں کی ہلاکتوں کے خلاف مظاہرہ ہوا اور پورے ضلع میں اعلیٰ اور ان کی ماتحت عدالتیں نقوی کی سوگ میں بند رہیں جبکہ سرکاری دفاتر بھی آدھے دن کے لئے بند رہے۔ سابق ڈپٹی سپیکر کی نماز جنازہ میں کشمیر کے اس علاقے کے قائم مقام صدر سردار سیاب خالد، وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری سلطان محمود، بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے اس علاقے کے صدر اسحاق ظفر سمیت کئی دوسرے سیاست دانوں اور مختلف طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پرکشمیر کے اس علاقے کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات نے شوکت حسین نقوی اور دیگر لوگوں کی ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی میں اس قدر اضافہ ہوا کہ وہاں کوئی بھی شخص کبھی بھی محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لئے بھرپور اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر انہوں نے نقوی کے سوگوار خاندان کے لئے دس لاکھ روپے کا اعلان کیا۔
بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے اس علاقے کے صدر اسحاق ظفر نے پاکستان کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں کوئی شخص محفوظ نہیں ہے اور یہ کہ حکومت پاکستان لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حکومت کو برسراقتدار رہنے کا کوئی آئینی، قانونی اور اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔ اس موقع پر دیگر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے سیالکوٹ میں ہوئے دھماکے کی بھر پور مذمت کی اور اس کو کھلی دہشت گردی قرار دیا اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اہم بات یہ کہ اس موقع پر سبھی طبقۂ فکر کے لوگ ایک آواز میں اس واقع کی مذمت کررہے تھے۔ پاکستان کے برعکس کشمیر کے اس علاقے میں مذہبی رواداری ہے اور مخلتف طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والی مذہبی جماعتوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہے اور کشمیر کا یہ علاقہ فرقہ واریت سے ابھی تک محفوظ ہے۔ اس علاقے میں آج تک فرقہ واریت کا کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس موقع پر دو شیعہ طلبہ تنظیموں نے شہر مظفر میں سیالکوٹ کے واقعہ میں نقوی اور دیگر لوگوں کی ہلاکتوں کے خلاف مظاہرہ کیا اور ٹائر جلا کر مظفرآباد شہر کی مرکزی شاہراہ تھوڑی دیر کے لئے بند کردی۔ بعد ازاں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ کشمیر کے اس علاقے کی حکومت نے مظاہرین کے مطالبے پر شوکت حسین نقوی کی ہلاکت کے خلاف سوگ منانے کے لئے پورے ضلع مظفرآباد میں سرکاری دفاتر میں آدھے دن کی چھٹی کی۔ سابق ڈپٹی سپیکر ایک پیشہ ور وکیل بھی تھے اور ان کے سوگ میں مظفرآباد میں اعلیٰ اور ان کی ماتحت عدالیتں بند رہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||