BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 October, 2004, 07:23 GMT 12:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیالکوٹ:تدفین، مظاہرے، فوج طلب

 نمازِ جنازہ کا ایک منظر
سیالکوٹ میں ہلاک ہونے والوں کی نمازِ جنازہ کا ایک منظر
سیالکوٹ میں جاں بحق ہونے والے نمازیوں کو سنیچر کے روز دفن کر دیا گیا ہے لیکن شہر میں کشیدگی اور مشتعل ہجوم کے مظاہروں کے بعد شہر میں فوج طلب کر لی گئی ہے۔

ہفتے کو نماز جنازہ کے بعد میتوں کو ریلوے سٹیشن پر اسی مسجد اور امام بارگاہ کے قریب قبرستان میں لایا گیا جہاں گزشتہ روز نماز جمعہ کے فورا بعد دھماکے سے ستائیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

دوسری طرف نماز جنازہ کے بعد چار پانچ سو مظاہرین نے، جنہوں نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے ہوئے تھے، شہر کے مختلف علاقوں میں جا کر حکومت، پولیس اور گورنر پنجاب کے خلاف نعرے بازی کی۔

مظاہرین کے ہنگاموں کے بعد شہر میں فوج طلب کر لی گئی ہے اور جوانوں سے بھری پانچ بڑی گاڑیاں ضلع کچہری کے پاس، جہاں انتطامیہ کے دفاتر واقع ہیں، کھڑی ہیں۔

دو سو کے قریب مظاہرین نے ضلعی پولیس آفس کو کچھ دیر گھیرے میں لیے لیا جس کے اندر ضلعی پولیس آفیسر سیالکوٹ، ڈی آئی جی گوجرانوالہ اور چار صوبائی وزراء، راجہ بشارت، اختر رضوی، اجمل چیمہ اور سید فیض موجود تھے۔ مظاہرین نے ڈی پی او آفس کے باہر گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے۔

اس کے بعد یہ مظاہرین ضلعی ناظم کے دفتر گئے اور وہاں انہوں نے ضلعی ناظم نعیم جاوید کے پی آر او عادل بٹ کے دفتر کو نذرِ آتش کر دیا اور ناظم کے دفتر کو بڑے گیٹ کو توڑ کر ایک موٹر سائیکل کو بھی جلا دیا۔

مظاہرین نے ضلعی جیل کے سامنے بھی دو موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی اور تھانہ سول لائینز میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور صحن میں رکھے فرنیچر کو بھی جلا دیا۔

اس سے پہلے میتوں کو جامعہ زینبیہ سے ریلوے سٹیشن کی طرف لے جاتے ہوئے جلوس میں ہزاروں افراد شریک تھے جو سینہ کوبی کرتے ہوئے شہر کی سڑکوں سے گزرے اور انہوں نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

ریلوے سٹیشن پر بھی ہزاروں افراد جمع تھے اور پولیس کی بہت بھاری نفری نے علاقہ کو گھیرے میں لیا ہوا ہے جبکہ فوج کی گاڑیاں بھی وہاں موجود تھیں۔

کالج روڈ پر واقع جامعہ زینبیہ میں نماز جمعہ کے فوراً بعد ہونے والے دھماکے میں ستائیس افراد ہلاک ہوئے تھے اور پچاس سے زیادہ زخمی۔ ہلاک ہونے والے پچیس افراد کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ دو افراد کی شناخت نہیں ہو سکی۔

سنیچر کو شہر میں سوگ تھا اور کاروبار بند رہا۔ جو لوگ ہلاک ہوئے تھے ان میں سے کچھ کا تعلق دوسرے شہروں سے تھا جہاں ان کی میتیں جمعے رات کو لے جائی گئیں اور جن لوگوں کا تعلق سیالکوٹ شہر اور نواحی علاقوں سے تھا ان کی میتیں آج جامعہ زینبیہ میں لائی گئی تھیں۔

کل سہ پہر اڑھائی بجے شیعہ مسلک کی مسجد اور امام بارگاہ میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مظاہرین میں خاصا اشتعال تھا جنہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور ایک ڈپٹی سپرنٹڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کو مارا اور ضلعی میئر نعیم جاوید کا گھیراؤ کیا جس کے بعد گیریزن کمانڈر میجر جنرل صابر حسین نے شہر کا دورہ کیا اور فوج کی بکتر بند گاڑیوں نے شہر میں گشت کیا۔

شہر میں شیعہ مسلک میں اتنا اشتعال ہے کہ انھوں نے پولیس کو تین گھنٹے تک جاۓ وقوعہ میں داخل نہیں ہونے دیا او رات کو انسپکٹر جنرل پولیس سعادت اللہ خان نے شہر کا دورہ کیا تو وہ بھی مسجد (جائے وقوعہ) پر نہیں جاسکے۔ آج چار صوبائی وزرا سیالکوٹ شہر میں تھے اور وہ بھی لوگوں کے ردعمل کے ڈر سے نماز جنازہ میں نہیں گۓ اور نہ انہوں نے سہ پہر تک جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جو دھماکہ خیز مواد مسجد کے اندر پھٹا وہ ثی ور قسم کا تھا جو صدر جنرل پرویزمشرف پر قاتلانہ حملہ میں بھی استعمال ہوا تھا اور بالی کے دھماکوں میں بھی استعمال ہوا تھا۔ مسجد کی دیوار کے ساتھ سڑک سے بھی ایک بیگ ملا تھا جس میں سات کلو وزنی دھماکہ خیز مواد تھا جو پھٹ نہیں سکا تھا اور جسے ناکارہ بنادیاگیا تھا۔

عینی شاہد عدنان جعفری کا کہنا ہے کہ نماز جمعہ ختم ہوتے ہی عصر کی نماز سے پہلے ایک شخص بریف کیس لے کر داخل ہوا اور جوں ہی وہ جھکا دھماکہ ہوگیا اور دھواں چھا گیا اور ہر طرف لاشیں بکھر گئیں۔

مسجد زینبیہ ، جو امام بارگاہ بھی ہے، کی اونچی اونچی دیواروں پر ہر چگہ خون کے لوتھڑے چپکے ہوئے ہیں اور زمین پر خون جما ہے اور خون کی بو سے وہاں ٹھہرنا محال ہے۔

دھماکہ کے وقت مسجد کا ہال نمازیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس میں تقریبا ایک ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور فرش میں ڈیڑھ فٹ گہرا اور ایک فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔

مقامی پولیس کے ایس ایچ او آصف جوئیہ کا کہنا ہے کہ یہ خود کش دھماکہ ہے۔ اس جگہ سے ملنے والے ایک اور مشکوک بریف کیس کو بم ڈسپوزل اسکواڈ نے قبضہ میں لے لیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد