دھماکہ، فاروقی کی ہلاکت کا ردِ عمل؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے سیالکوٹ دھماکے کے سانحہ کے بارے میں کہا ہے کہ امجد فاروقی کی ہلاکت اور ان کے بہت بڑے نیٹ ورک میں داخل ہونے کے بعد رد عمل لازمی تھا۔ان کے بقول جب ایسے لوگ پکڑے یا مارے جاتے ہیں تو وہ شدت پسند کارروائیوں کے ذریعے پیغام دیتے ہیں کہ وہ ابھی مرے نہیں، زندہ ہیں۔ جمعہ کو شام گئے پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ’فی الوقت وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ سیالکوٹ کا سانحے میں کون ملوث ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس واقعہ کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ البتہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر جنرل پرویزمشرف امریکہ، ہالینڈ اور اٹلی کا کامیاب دورا کر کے واپس آئے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ سیالکوٹ واقعہ اس کا تاثر زائل کرنے کی ناکام کوشش ہو؟ وزیر نے بتایا کہ سیالکوٹ کی مسجد میں بیس نمازیوں کو ہلاک کیا گیا۔ان کے مطابق ایسے واقعات کو کس طرح اسلام کی خدمت یا مسلمانوں والا کام کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی امریکی صدر بش سے ملاقات میں فوجی وردی کا معاملہ زیربحث نہیں آیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امریکہ سے وردی پر کوئی اختلاف رائے نہیں، یہ وردی ہماری ہے، ہمارا آئین ہے، ہم ہی فیصلہ کریں گے اور ہم کسی کے نیچے نہیں لگے ہوئے‘۔ شیخ رشید احمدنے کہا کہ جارج ڈبلیو بش امریکہ کے صدر بنیں یا جان کیری، پاکستان پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ایسی ہے کہ کوئی بھی اس کی اہمیت کا انکار نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے وردی کے متعلق فیصلہ کرلیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ذرا دوبارہ بولیں کیونکہ آپ نے پہلے بھی کہا تھا کہ صدر نے وردی نہ اتارنے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن بعد میں وہ بیان واپس لے لیا تھا۔ اس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ’صدر حتمی فیصلہ بعد میں کریں گے‘۔ ایک اور سوال پر وزیر نے کہا کہ جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو’انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن، کے سامنے پیش نہیں کریں گے نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کی ملاقات کو کشمیر مسئلے کے حل کی طرف اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ صدر مشرف کشمیر کے ایسے حل کی طرف جا رہے ہیں جو کشمیریوں اور پاکستانیوں کو قبول ہو اور بھارت پر بھی بوجھل نہ بنے اور ان کے لیے بھی قابل قبول ہو۔تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||