’لیگیوں کو جلد چھوڑ دیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے بتایا ہے کہ شہباز شریف کے استقبال کے سلسے میں مسلم لیگ (ن) کے گرفتار کارکنان میں سے آٹھ دس کے علاوہ باقیوں کو جلد چھوڑ دیا جائے گا۔ منگل کی شام ایک اخباری کانفرس میں ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں کارکنان کی گرفتاری کا دعوی غلط ہے بلکہ ایک سو دس کے لگ بھگ کل گرفتاریاں ہوئیں تھی۔ شہباز شریف کی لاہور آمد کے بعد انہیں فوری طور پر جدہ بھجوانے کے متعلق ان کا دعویٰ تھا کہ شریف خاندان اور حکومت کے درمیاں پاکستان سعودی عرب کے فرمان روا کی مداخلت سے دس سال تک پاکستان نہ آنے کا معاہدہ ہوا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ معاہدے کے تحت شریف خاندان حدیبیہ پیپرملز اور اتفاق فاؤنڈری کے ذمہ واجب الادا قرضے کی اقساط بھی ادا کرتا رہا ہے۔ وزیر کا کہنا تھا کہ گولی کی نوک پر شریف خاندان سے معاہدے پر دستخط نہیں کروائے گئے تھے بلکہ انہوں نے اپنے وکلاء کو معاہدے کا متن دکھا کر تسلی کے بعد دستخط کئے تھے۔ ان کے بقول وکلاء میں ملک رفیق زندہ ہیں اور اعجاز بٹالوی وفات پاچکے ہیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ شہباز شریف ٹرانزٹ میں تھے ان کے طبی معائنے کے بعد ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ انہیں جدہ بھیج دیا گیا۔ تاہم انہیں معلوم نہیں کہ ان کے پاس سفری دستاویزات تھیں بھی کہ نہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ لاہور کے علاقے پرانی انارکلی اور گوالمنڈی میں تھوڑا بہت کچھ ہوا ہوگا باقی لاہور سمیت پورے ملک میں زندگی معمول پر تھی۔ نہ کوئی پرواز اور نہ ہی کسی ریل گاڑی کا شیڈول متاثر ہوا۔ انہوں نے میڈیا باالخصوص الیکٹرانک میڈیا پر الزام لگایا کہ میڈیا نے ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا اور میڈیا کو کسی ’نو دولتیئے‘ کی آمجگاہ نہیں بننا چاہیے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود بھی حکومت میڈیا کی آزادی کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت نے شہباز شریف کو واپس بھیج کر سپریم کورٹ کے فیصلے کی نفی نہیں کی تو شیخ رشید کا کہنا تھا کہ انہیں قانون کا زیادہ علم نہیں البتہ انہوں نے صحافیوں کو وزارت قانون سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||