’جھڑپیں تو چلتی رہتی ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی وزیرِاطلاعات شیخ رشید نے مسلم لیگ (نواز) کے شہباز شریف کے استقبال کے حوالے سے ہونے والی گرفتاریوں کے بارے میں کہا ہے کہ ’چھوٹی موٹی گرفتاریاں، ہلکی پھلکی جھڑپیں اور ہلکی پھلکی موسیقی تو لگی رہتی ہے۔‘ لاہور میں لگائی جانے والی دفعہ ایک سو چوالیس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’اس کی فکر نہ کریں یہ توبرف کے گولوں پر بھی لگتی رہتی ہے، آتش بازی پر بھی لگتی ہے ، ایسی مواقع ہوتے ہیں جن سے بعض لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لیے بھی اسے لگایا جاتا ہے۔‘ شہباز شریف کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’وہ آئیں، ان کے پاس کورٹ کا فیصلہ بھی ہے، اور ممکن ہے وہ پھر کورٹ کا سہارہ لیں۔ اس لیے جو حکومت کے اقدام ہیں، وہ حکومت کرے گی۔‘ سیاست دانوں کی آمد پر گرفتاریوں کے بارے میں انہوں نے کہا ’ہونی تو نہیں چاہیں، لیکن ہوتی ہیں اور بعض غریب ورکروں کو اس کی نذر ہونا پڑتا ہے۔‘ انہوں کہا کہ چار پانچ دن میں دفعہ ایک چوالیس اٹھ جائے گی۔ شہباز شریف سے تعلق کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ لاہور کا اور صوبائی معاملہ ہے اور اس کا جوایب لاہور اک انتظامیہ ہی دے سکتی ہے۔ شیخ رشید نے ماضی میں شہباز شریف سے قربت کے بارے میں کیے جانے والے سوال کے بارے میں کہا کہ ’سیاست بڑی بے رحم چیز ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ اخبارات میں ان کے اشتہارات شائع ہو رہے ہیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سیاست اور جمہوریت میں یہ تو لگا ہی رہتا ہے، کچھ سیاست کے لیے ہوتے ہیں اور کچھ کمپنی کی مشہوری کے لیے۔ لوگ آتے ہیں اور لوگ جاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ کئی فلائٹیں آتی اور جاتی ہیں جنہوں نے آنے کا فیصلہ کیا ہے انہیں بہتر پتہ ہو گا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||