سیالکوٹ:ملزمان پر فردِ جرم عائد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈیڑھ سال پرانے سانحہ سیالکوٹ جیل میں ملوث ایک ڈی آئی جی سمیت سولہ پولیس افسروں پر قتل اور دہشت گردی کی فرد جرم عائد کر دی ہے۔ ان پولیس اہلکاروں سمیت تئیس ملزمان کے خلاف پچیس جولائی سن دوہزار تین کو جیل میں یرغمال بنائے جانے والے چار ججوں کی ہلاکت کے بعد فوجداری مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جمعہ کے روز گوجرانوالہ کی عدالت میں ڈی آئی جی ملتان ملک اقبال ، ضلعی پولیس افسر گجرات راجہ منور، اس وقت کے ضلعی پولیس افسر سیالکوٹ امجد سلیمی کےعلاوہ سیالکوٹ جیل کے افسران اور ایلیٹ فورس کے بارہ اہلکار اور دو ڈاکٹر بھی موجود تھے ۔ عدالت کے فرد جرم عائد کرنے کے بعد جیل کے دو افسروں نے فرد جرم پر دستخط کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انہیں ضابطے کے مطابق فرد جرم عائد کرنے سے دوہفتے پہلے مثل کی نقل فراہم نہیں کی گئی تھی۔ پولیس افسروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے جیل میں آپریشن بالکل نیک نیتی سے کیا تھا اور اس دوران انہوں نے پینتس بےگناہ افراد کی جانیں بچائیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے۔ ملزمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اور اس دوران جو جج ہلاک ہوئے انہیں ان سے کوئی ذاتی عداوت نہیں تھی ۔انہوں نے عدالت سے کہا کہ اس سیشن جج کو بھی ملزم قرار دیا جانا چاہیے جو ضلعی پولیس افسر اور ڈی سی او کو بتائے بغیر گیارہ ججوں کو اچانک جیل کے معائنہ کے لیے لے گئے تھے۔ عدالت نے بتایا کہ سیشن جج کو بھی عدالت میں شہادت کے لیے بلایا جاۓ گا اور اس دوران ان سے جرح کی جا سکے گی۔ عدالت نے سیالکوٹ کے دو ڈاکٹروں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو بائیس کے تحت فرد جرم عائد کی ہے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے زخمی ججوں کے علاج میں غفلت کا مظاہرہ کیا جس کے سبب جج شہر یار بخاری اور ان کا ایک ساتھی دم توڑ گئے۔ عدالت اس مقدمے کی سماعت اب روزانہ کرے گی۔تمام پولیس افسران پہلے سے ضمانت پر ہیں۔تقریبا ڈیڑھ سال پہلے ہونے والے اس سانحہ میں چار ججوں کے علاوہ انہیں یرغمال بنانے والے پانچ قیدی بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||