BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 October, 2003, 12:50 GMT 17:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب میں وکلاء کی ہڑتال

ہائی کورٹ کی متنازعہ زمین پر بنے ہوۓ وکلا کے پچاس کے قریب دفاتر گرا دیے گۓ تھے

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطالبہ پر بدھ کو عدالت عالیہ میں وکلاء نے چند روز پہلے وکلاء کے دفاتر گراۓ جانے کے خلاف جزوی ہڑتال کی۔

لاہور ہائی کورٹ کے ایک بیان کے مطابق عدالت عالیہ اور ماتحت عدالتوں کے ججوں نے اپنا کام معمول کے مطابق کیا۔

تاہم پنجاب کے دوسرے شہروں ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور گوجرانوالہ سے وکیلوں کی تقریباً مکمل ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

چند روز پہلے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری کے حکم پر ہائی کورٹ کی متنازعہ زمین پر بنے ہوۓ وکلا کے پچاس کے قریب دفاتر گرا دیے گۓ تھے۔

لاہور ہائی کورٹ میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور وکلاء کی عدالتوں میں حاضری معمول سے خاصی کم تھی۔ کئی سینیئر وکلاء نے اپنے جونیئر ساتھیوں کو بھیج کر سماعت کی نئی تاریخ لی۔ تاہم عدالت عالیہ کا کام مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے یوم سیاہ منایا اور کیانی ہال میں جنرل ہاؤس اجلاس منعقد کیا جس میں ارکان نے تقریریں کرتے ہوۓ چیف جسٹس کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔

بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں اس وقت کچھ تلخی پیدا ہوگئی جب ایک رکن وکیل نے احتجاج کے خلاف کچھ کہنے کی کوشش کی۔ اجلاس میں شریک دوسرے وکلاء نے اس وکیل کو اسٹیج سے زبردستی ہٹا دیا۔

بار کے اجلاس میں چیف جسٹس کے خلاف قرار داد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ بار افتخار چودھری کو چیف جسٹس ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ ان کو الجہاد ٹرسٹ کیس میں دیے گۓ اصول کے خلاف چیف جسٹس بنایا گیا تھا جبکہ وہ سینیئر ترین جج نہیں تھے۔ بار نے کہا کہ وہ سینیئر ترین جج فخرالنسا کو چیف جسٹس تسلیم کرتی ہے۔

بار نے قرار داد میں کہا کہ چیف جسٹس نے وکلا سے محاذ آرائی کا آغاز کیا ہے اور انھیں اس کا خمازہ بھگتنا پڑے گا۔ بار نے کہا کہ چیف جسٹس کا وکلا سے رویہ قابل نفرت اور قابل مذمت ہے جو بینچ کو تباہ کررہا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ افتخار چودھری سے کہا کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ قرار داد میں کہا گیا کہ اگر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو برطرف نہیں کیا گیا تو بار احتجاج کو دوسرے صوبوں تک لے جاۓ گی۔

دوسری طرف، لاہور ہائی کورٹ نے اپنے سرکاری اعلان میں کہا ہے کہ ہڑتال کے مطالبہ کو عدالتی اور قانونی برادری کی جانب سے پذیرائی نہیں ملی اور ہائی کورٹ کے ججوں نے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا معمول کا کام کیا۔ اس اعلان کے مطابق دو درجن وکیلوں نے کچھ ججوں سے کام چھوڑنے کے لیے کہا لیکن ججوں نے اپنا کام جاری رکھا۔

ہائی کورٹ کے اعلان کے مطابق عدالت عالیہ نے چھ سو چار مقدمات کی سماعت کی اور دو سو چار مقدمات کو نپٹایا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد