BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 October, 2004, 12:18 GMT 17:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیالکوٹ: پولیس افسران معطل

ہلاکتوں پر احتجاج
سیالکوٹ دھماکے کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج کیے گئے۔
سیالکوٹ میں گزشتہ جمعہ کے روز شیعہ جامعہ مسجد زینبیہ میں دھماکہ میں اکتیس افراد کی ہلاکت پر کارروائی کرتے ہوئے پنجاب کے وزیراعلٰی چودھری پرویز الٰہی نے آج سیالکوٹ پولیس کے سربراہ اور دوسرے متعلقہ پولیس افسروں کو معطل کردیا ہے۔ دوسری جانب شیعہ تنظیم نے کہا ہے کہ ان کا مطالبہ پولیس افسروں کی معطلی نہیں بلکہ ملزموں کی گرفتاری اور سزا ہے۔

پنجاب کے وزیراعلٰی چودھری پرویز الٰہی کے ترجمان امجد بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے ڈسٹرکٹ پولیس افیسر (ڈی پی او) نثار سرویا، ڈی ایس پی طہٰ نواز وڑائچ اور ایس ایچ او تھانہ رنگ پورہ آصف حنیف جوئیہ کو معطل کردیا ہے کیونکہ حکومت نے پہلے سے اعلان کیا ہوا تھا کہ اگر کسی جگہ مذہبی دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری وہاں کے متعلقہ ایس ایچ او، ڈی ایس پی اور ایس پی کی ہوگی۔

ترجمان کے مطابق وزیراعلٰی نے ان افسروں کو معطل کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جامعہ مسجد زینبیہ پر تعینات گارڈز کو صحیح طریقہ سے بریف نہیں کیا تھا کہ انھیں وہاں پر کیا حفاظتی اقدامات لینے ہیں۔ اس لیے یہ لوگ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب ہوئے۔

وزیراعلٰی نے کہا ہے کہ سینیئر پولیس افسروں پر لازم ہے کہ وہ اپنی نگرانی کو مؤثر بنائیں اور جو قواعد و ضوابط اور نظم و ضبط کے اصول ہیں انھیں نچلے عملے تک پہنچائیں تاکہ وہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹ سکے۔

وزیراعلٰی نے یہ بھی کہا ہے کہ سیالکوٹ میں زینبیہ مسجد میں دھماکہ کرنے والے اصل ملزم کے بارے میں خاصے شواہد مل گئے ہیں اور حکومت کی ہدایت پر چاروں انٹیلی جنس ایجنسیاں ، اسپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیور، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے مل کر کام کررہی ہیں۔

دوسری طرف آج سیالکوٹ میں آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے علماء نے ، جو کراچی ، کوئٹہ اور دوسرے شہروں سے جمع ہوئے تھے، کہا کہ ان کا مطالبہ پولیس افسروں کی معطلی نہیں ہے بلکہ حکومت ان فیکٹریوں کو بند کرے جو شیعہ لوگوں کے خلاف نفرت کے فتوے جاری کرتی ہیں۔

ان علماء میں کراچی سے نسیم الحسن شاہ اور ضلعی کوثر ، کوئٹہ سے سید زاہد شاہ، سکھر سے عالم شاہ وغیرہ شامل تھے۔

شیعہ علماء نے ، جن میں جامعہ مسجد زینبیہ کے خطیب اور ان ہلاکتوں کے مدعی فیض کرپالوی شامل تھے، یہ بھی کہا کہ ایک سال میں اب تک تین سو شیعہ دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں اور اب تک کسی واقعہ کے ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ کسی کو عدالت سے سزا ملی۔

شیعہ علماء نے کہا کہ گزشتہ پندرہ سال میں ہزاروں شیعہ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جن ملزموں کو گرفتار کیا گیا وہ اعلٰی عدالتوں سے بری ہوگئے اور حکومت نے انھیں حفاظت کے لیے گارڈز مہیا کیے ہوئے ہیں۔

شیعہ علماء نے کہا کہ اس واقعہ کے چار روز گزرنے کے باجود اب تک گورنر، وزیراعلٰی پنجاب یا کسی ثفاقی وزیر نے جائے وقوع کا دورہ نہیں کیا اور کسی مرنے والے کے لواحقین سے تعزیت کے لیے نہیں گئے۔

علماء نے مطالبہ کیا کہ مرنے والوں کے پسماندگان کے لیے حکومت ایک ایک لاکھ روپے کے بجائے پانچ پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو تین تین لاکھ روپے ادا کرے اور مرنے والوں کے لواحقین کے لیے ماہانہ وظائف بھی مقرر کرے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد