سگے بھائی پولیس کے ہاتھوں قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے تھانہ فریئر کی حدود میں ایک واقعہ میں ڈاکو قرار دے کر مارے جانے والے دونوں سگے بھائیوں کے رشتہ داروں اور اہل محلہ کی جانب سے بے گناہ ہونے کی وضاحت کے بعد پولیس نے بھی اپنا موقف تبدیل کردیا ہے۔ منگل کی رات گزِری کے علاقے میں واقع ’چانڈیہ ولیج، کے رہائشی شکیل چانڈیو اور ان کے بھائی فرید اپنی کار واشنگ کی دوکان پر بیٹھے تھے کہ پولیس نے ایک اشتہاری مجرم شریف کیچو کی وہاں موجودگی کی اطلاع واقعے کے فوراً بعد کراچی سٹی پولیس چیف طارق جمیل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شریف کیچو زخمی حالت میں اپنے ایک ساتھی سمیت فرار ہوگیا جبکہ ان کے دو ساتھی ڈاکو مارے گئے۔ اس مقابلے میں دو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک پولیس انسپیکٹر زخمی ہوگیا تھا۔ بدھ کے روز ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں اور اہل محلہ نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے ڈاکو نہیں بے گناہ تھے۔ عینی شاہد محمد امین نے بی بی سی کو بتایا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دو افراد رائفل اور پستول سے مسلح آئے اور اچانک فائرنگ شروع کردی۔ ان کے مطابق فرید فون پر بات کر رہے تھے کہ انہیں گولی لگی اور وہ گر پڑے تو شکیل نے اپنی لائسنس والی پستول سے حملہ آوروں پر فائرنگ کردی۔ محمد امین کا دعویٰ تھا کہ اسی اثناء میں باوردی پولیس اہلکار آئے اور شکیل کو گھیر کر ان سے پستول چھینا اور زمین پر گرا کر ان کے سینے کے اوپر لات رکھ کر پورا برسٹ مارکر اسے ہلاک کردیا گیا۔ شکیل کے والد عبدالستار چانڈیو نے بتایا کہ سفیروں جیسی بڑی گاڑیوں میں سے دو آدمی سادھ کپڑوں میں آئے اور فائرنگ شروع کردی جس سے ان کا بیٹا فرید ہلاک ہوگیا۔ ان کے وہ جب سڑک پر آئے تو اس وقت انہیں معلوم نہیں تھا کہ انہی کے بیٹوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا جوڈو اور کراٹے کا قومی چیمپین تھا جبکہ جاپان اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں بھی وہ کھیل چکا ہے اور انہیں باہر ممالک سے تمغے، ٹرافیاں اور اسناد مل چکی ہیں۔
مقتول کے والد نے مزید بتایا کہ ان دنوں ان کے ایک بیٹے جمیل چانڈیو برٹش اوپن کراٹے چیمپئن شپ میں شرکت کے برطانیہ گئے ہوئے ہیں جو بھائیوں کی موت کی خبر سن کر واپس پہنچ رہے ہیں۔ والد کے مطابق ان کا مقتول بیٹا نیشنل بینک میں گریڈ تھری کا افسر تھا اور محلے کی امن کمیٹی کا رکن بھی ہے۔ شکیل کو دس سال سے جاننے والے ایک مدرسے کے مہتمم اور امام مسجد محمد یامین نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ با اخلاق اور با کردار آدمی تھے اور کبھی ان کے متعلق کوئی شکایت نہیں ملی۔ شکیل چانڈیو کے شاگرد ساجد حسین کا دعویٰ تھا کہ ان کا استاد نہایت شریف شخص تھا اور لوگوں کے کام آتا تھا۔ ان کے مطابق سٹیڈیم میں جس جگہ لوگ ہیروئن پیتے تھے انہیں ہٹا کر اس جگہ انہوں نے اپنی مدد آپ کی بنا پر جوڈو اور کراٹے کا سینٹر قائم کیا جس میں بلا معاوضہ بچوں کو تربیت دیتے تھے۔ ہم جب اس کلب میں گئے تو مقتول شکیل کی کئی تصاویر لگی ہوئیں تھیں جس میں ایک تصویر پاکستان فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر مارشل فاروق فیروز خان کے ساتھ بھی تھی۔ مقتول کی سب سے چھوٹی بہن نے بتایا کہ بھائی بھی میرے قتل ہوئے اور پولیس اہلکاروں نے دھاوا بھی ہمارے گھر پر بول دیا۔ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں کو جیسے پہلے سے پتہ تھا اور مخبری ہوئی تھی کہ وہ گھر کے اندر سیدھے ان کے بھائی کے کمرے میں گئے اور لائسنس والے ہتھیار اٹھا کر لے گئے۔ وزیر داخلہ ایم اے رؤف صدیقی سے جب ایک پریس کانفرنس میں اس قتل کے بارے میں پوچھا تو وہ تاحال بضد تھے کہ ہلاک ہونے والے دونوں بھائی رحمان ڈاکو اور شریف کیچو سے تعلق رکھتے تھے۔ ان سے جب پوچھا کہ سادہ کپڑوں میں چھاپہ مارنے پر پابندی ہے تو وزیر نے کہا کہ پابندی برقرار ہے۔ اس موقع پر موجود آئی جی پولیس کمال شاہ نے کہا کہ مقابلہ جعلی نہیں ہے کیونکہ دو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے سادہ کپڑوں میں پولیس کارروائی کو جائز بھی کہا۔
کراچی سٹی پولیس چیف طارق جمیل نے بی بی سی بات کرتے ہوئے اپنے منگل کے روز دیے گئے بیان سے انحراف کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ کہا ہی نہیں تھا کہ ڈاکو ہلاک ہوئے ہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ اب وہ مقتولین کو کیا کہیں گے تو انہوں نے کہا وہ ڈاکو شریف کیچو کے تعلق دار ہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ اصل ڈاکو بھاگ گئے اور ان کے تعلق دار مقابلے میں مارے گئے تو انہوں نے کہا کہ اکثر ہوتا ہے کہ ڈاکو بھاگ جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||