BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 January, 2005, 16:32 GMT 21:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: جرائم میں اضافہ

فائل فوٹو
کراچی میں پچانوے پولیس تھانے ہیں جبکہ فورس کی تعداد اٹھائیس ہزار کے لگ بھگ ہے
پاکستان کے تجارتی دارالحکومت کراچی میں عید کی آمد سے قبل چوریوں، ڈکیتیوں اور راہزنی کے واقعات میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والے ایسے واقعات میں پیر الہیٰ بخش کالونی میں واقع الائیڈ بینک سے ڈاکہ زنی میں سولہ لاکھ روپے لوٹے جانے کی واردات بھی شامل ہے۔

پاک کالونی میں ایک ٹرک ڈرائیور کو مبینہ طور پر پچاس روپے رشوت نہ دینے کی بنا پر پولیس اہلکاروں کےگولی مارنے کا واقعہ بھی گزشتہ اتوار کو رونما ہوا ہے۔

لیاقت آباد کے قریب ’بی ایریا‘ میں ایک ڈیکوریشن کی دوکان پر بیٹھے باپ بیٹے اور ملازم کو گولیاں مار کر قتل کرنے اور لیاری کے علاقے میں ایک دوکان پر بیٹھے دو بھائیوں کو قتل کرنے کے واقعات کی وجوہات بھی عید کی آمد سے قبل بھتہ ادا نہ کرنا بتائی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں جب کراچی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید مشتاق شاہ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ جب بھی عید قریب آتی ہے تو چوری، ڈاکے، راہزنی، جیب کاٹنے والے جرائم پیشہ افراد کچھ زیادہ ہی سرگرم ہوجاتے ہیں۔

تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑے جرائم پر پولیس نے کافی حد تک قابو پالیا ہے اور روزانہ شہر کے کسی نہ کسی علاقے میں ڈاکو پولیس مقابلوں میں ہلاک یا زخمی یا گرفتار کیے جاتے ہیں۔

جرائم میں اضافے کے تاثر کو انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اعداد وشمار اس تاثر کے برعکس ہیں۔جب متعلقہ پولیس افسر کی توجہ چند دن قبل ڈاکہ زنی کرتے ہوئے مارے جانے والے ایک اسٹسنٹ سب انسپکٹر کے واقعے کی طرف مبذول کرائی گئی تو مشتاق شاہ نے کہا کہ ’پولیس کے علاوہ بھی اچھے بھلے لوگ ڈاکے ڈالتے ہیں‘۔

انہوں نے کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایک انسپکٹر کا واقعہ سنایا اور کہا کہ ایک مکان سے پورا سامان لے جاتے ہوئے اسے کچھ روز قبل گرفتار کیا گیا۔

تاہم ڈی آئی جی کا دعویٰ تھا کہ پولیس کی گرفت مضبوط ہے اور اسے مزید مضبوط بنانے کے لیے انہوں نے عید کے موقع پر تین ہزار اضافی فورس خصوصی ڈیوٹی کے لیے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوا کروڑ سے زیادہ آبادی کے شہر کراچی میں پچانوے پولیس تھانے ہیں جبکہ فورس کی تعداد ڈی آئی جی کے مطابق اٹھائیس ہزار کے لگ بھگ ہے، جس میں سے بھی آٹھ ہزار اہلکار مختلف اداروں اور شخصیات کے محافظوں کے طور پر تعینات ہیں۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا تین ہزار اضافی پولیس فورس کی تعیناتی سے چوریاں، ڈاکے اور راہزنی کے واقعات میں کمی ہوتی ہے یا کہ اضافی فورس کا بوجھ بھی عوام کی جیب پر ہی پڑے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد