BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 November, 2004, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچے شکایت درج کرا سکیں گے

ایک اندازے کے مطابق کراچی کی چھوٹی بڑی سڑکوں پر کم از کم آٹھ سو سے ایک ہزار بچے کچھ نہ کچھ بیچتے دیکھے جا سکتے ہیں ۔
ایک اندازے کے مطابق کراچی کی چھوٹی بڑی سڑکوں پر کم از کم آٹھ سو سے ایک ہزار بچے کچھ نہ کچھ بیچتے دیکھے جا سکتے ہیں ۔
صوبہ سندھ کے سماجی بہبود کے محکمے نے اقوامِ متحدہ کے بچوں کے لیے قائم ادارے یونیسیف کے اشتراک سے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ حکمت عملی خاص کر ان بچوں کو مد نظر رکھ کے تیار کی گئی ہے جو پانچ برس کی عمر سے لے کر سن بلوغت تک پہنچ رہے ہوں اور جو سڑکوں پر کبھی اخبار بیچتے تو کبھی وقت بے وقت پھول بیچتے نظر آتے ہیں۔

اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کا عورتوں اور بچوں سے متعلق یونیسف کا ادارہ سندھ کے سماجی بہبود کے محکمے کو تعاون فراہم کرتے ہوئے ایسے دس ڈراپ ان مراکز قائم کرے گا جہاں یہ بچے کسی بھی قسم کے تشدد، مار پیٹ یا ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھائے جانے کے خلاف اپنی شکایت کسی بھی وقت درج کراسکیں اور انہیں پناہ دی جا سکے۔

ایک اندازے کے مطابق کراچی کی چھوٹی بڑی سڑکوں پر کم از کم آٹھ سو سے ایک ہزار بچے کچھ نہ کچھ بیچتے دیکھے جا سکتے ہیں ۔

ان بچوں کا تعلق کراچی شہر سے ہی نہیں بلکہ ملک کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہے جن میں بیشتر افغان پناہ گزینوں کے محلوں سے آتے ہیں، بعض پنجاب کے مختلف شہروں کے ہو تے ہیں جبکہ مقامی سطح پر کراچی کے مختلف پسماندہ علاقوں کے سکولوں سے بھاگے ہوئے اور سکولوں سے اٹھا لیے گئے بچے بھی اپنی قسمت کے روڑے ہٹانے میں مصروف ہوتے ہیں۔

آٹھ سو سے ہزار بچے ہر روز
 ایک اندازے کے مطابق کراچی کی چھوٹی بڑی سڑکوں پر کم از کم آٹھ سو سے ایک ہزار بچے کچھ نہ کچھ بیچتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

حکومت سندھ کی جانب سے اس حکمت عملی کے بارے میں ہونے والی ایک خصوصی میٹنگ میں صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود شبیر احمد قائم خانی اور یونیسیف میں پاکستان کی نمائندے نائب نمائندہ یونیسیف رانلڈ وین ڈجک بھی موجود تھے۔

مسٹر ڈجک کا کہنا تھا کہ یونیسیف عالمی سطح پر خواتین اور بچوں کی بہبود کے لیے کام کر رہی ہے اور پاکستان میں بھی اس کی کوششیں پچھلے پچاس برسوں سے جاری ہیں۔

مسٹر ڈجک کے مطابق وہ بچے جو سڑکوں پر روزگار کے لیے ننگے پاؤں پھرتے نظر آتے ہیں یا وہ جو جیلوں میں شدید پریشانی کا شکار ہیں اور بااثر لوگ ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، ضروری ہے کہ ان کی جانب توجہ دی جائے اور ان کو درپیش حالات کو مانیٹر کیا جائے۔

یاد رہے کہ ان بچوں کو کبھی پولیس کو ماہانہ تو اکثر ہفتہ وار معاوضہ دینا پڑتا ہے جسے عام زبان میں بھتہ بھی کہا جاتا ہے۔ ان بچوں سے بات کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ انہیں تین سے پانچ سو روپے کی کمائی میں سے سو سوا سو بھتہ دینا پڑ جاتا ہے۔

جہاں تک سوال ہے ان کے ساتھ سڑک پر ہونے والی زیادتیوں کا تو پوچھنے پر بیشتر نے کھل کر بات نہیں کی۔ بعض نے صرف اتنا ہی کہا کہ رات میں خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔

منشیات بھی، جنسی امراض بھی
 ان بچوں کو نہ صرف تمباکو نوشی اورمنشیات کی لت کا شکار دیکھا گیا ہے بلکہ وہ جنسی بیماریوں کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔

ان مراکز کے قیام سے متعلقہ افراد نے تسلیم کیا کہ سڑکوں پر روزگار کی تلاش میں دن رات مارے مارے پھرنے والے ان بچوں میں نوجوان بھی شامل ہوتے ہیں اور کسی صحتمندانہ ماحول اور رہنمائی سے محرومی کی وجہ سے اکثر غلط صحبت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ان بچوں کو نہ صرف تمباکو نوشی اورمنشیات کی لت کا شکار دیکھا گیا ہے بلکہ وہ جنسی بیماریوں کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مراکز کے قیام کے زریعے ان بچوں میں صحتمندانہ ماحول کو اپنانے کا رجحان پیدا کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد