BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 September, 2003, 00:01 GMT 04:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پچاسی اغوا شدہ افغان بچے بازیاب
والدین کو مبینہ طور پر بچوں کے لئے رقوم دی جاتی ہیں

افغان حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اغوا ہونے والے پچاسی ایسے بچوں کو بازیاب کر لیا ہے جنہیں سمگل کر کے ملک سے باہر بھیجا جانا تھا۔ ان میں سے بعض بچوں کی عمریں چار سال تک کی ہیں۔

بازیاب کیے جانے والے بچوں میں سے پچاس بچے جن کا تعلق شمالی صوبے بدخشاں سے ہے اس وقت پولیس کی نگاہ میں آئے جب وہ ایک قریبی صوبے میں سڑک کے راستے آگے جا رہے تھے۔

حکام کو شبہہ ہے کہ اغوا کیے جانے والے بچوں کو پاکستان اور ایران میں مدرسوں کے حوالے کیا جانا تھا۔ حکام کو اس بات کا بھی شبہہ ہے کہ ان بچوں کو اغلام بازی کی غرض سے فروخت بھی کیا جا سکتا تھا۔

افغان حکام نے بتایا ہے کہ لڑکوں کی سمگلنگ کے شبہے میں آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بچوں کے لئے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف نے خبرادار کیا ہے کہ افغانستان میں بچوں کا اغوا ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے وسائل کی بہت کمی ہے۔ یونیسف نے افغانستان کے وزیر ِداخلہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں۔

طالبان کے زوال کے بعد سے افغانستان کی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں پولیس اور فوج کی تعمیرِ نو کی جائے۔ پولیس اور فوج کے ادارے بیس سال کی خانہ جنگی کے دوران بالکل ہی ختم ہو چکے ہیں۔

یونیسف کے ترجمان ایڈورڈ کارورڈائن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں شبہہ ہے بازیاب ہونے والے بچوں کے علاوہ اور بھی بچے ہوں گے جنہیں اغوا کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس غیر مصد قہ اطلاع ہے کہ ملک کے جنوبی حصوں سے بچے غائب ہو رہے ہیں۔

اس ادارے کے مطابق کئی بچے اغوا ہونے کے بعد جنسی تسکین کے ایک ذریعہ کے طور پر بیچ دیے جاتے ہیں یا پھر انہیں مزدوری کا کام کرنے کے لئے فروخت کر دیا جاتا ہے۔

افغانستان کے خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ پاکستان سے بھری ہوئی جیبوں کے ساتھ کئی لوگوں نے اکثر افغانستان کے دور دراز علاقوں کا سفر کیا ہے۔ یہ لوگ وہاں کے غریب لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کو اچھی مذہبی تعلیم دی جائے گی تاکہ ان کے سینے ایمان کی روشنی سے منور ہو جائیں۔

ان کا کہنا تھا: ’پھر ان غریب بچوں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سمگل کر دیا جاتا ہے جہاں پہلے ان کے ذہنوں کو تبدیل کیا جاتا ہے اور بعد میں انہیں جنسی تسکین کے سامان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اور بالآخر یہ بچے پاکستان کی ایجنسیوں اور مذہبی جماعتوں کا ایک ہتھیار بن جاتے ہیں۔‘

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا اختیار کابل سے باہر نہیں ہے اور ملک کے مختلف صوبوں میں جنگجو سردار حکمران ہیں جن کی اپنی اپنی فوج ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد