BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 January, 2005, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹریفک مسائل میں ڈوبتا ہوا کراچی

کراچی
کراچی میں گزرتے ہوئے ہر گھنٹے کے ساتھ سڑک پر آٹھ نئی گاڑیوں کا اضافہ ہورہا ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ٹریفک کے مسلسل بڑھتے ہوئے مسائل کا اس طرح شکار ہے کہ سڑکوں کی کشادگی، فلائی اوورز کی تعمیر اور ٹریفک قوانین میں تبدیلیاں بھی اس اضافے کو روک نہیں پا رہیں اور اب یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کا صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ شہری انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا ٹریفک رویہ تبدیل کریں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے سندھ ٹریفک پولیس کے سربراہ محمد یامین خان کا کہنا ہے کہ کراچی میں گزرتے ہوئے ہر گھنٹے کے ساتھ سڑک پر آٹھ نئی گاڑیوں کا اضافہ ہورہا ہے۔ اور اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ٹریفک مسائل میں اضافے کی رفتار کیا ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہر قسم کی موٹر گاڑیوں کی تعداد پیتالیس لاکھ کے قریب ہے جبکہ اس تعداد کا تقریبا ایک تہائی یعنی چودہ لاکھ گاڑیاں صرف کراچی میں چلتی ہیں۔ ان کے مطابق ایک جانب تجاوزات بڑھ رہے ہیں اور دوسری جانب پارکنگ کا انتظام نہیں ہے جس سے سڑکیں تنگ اور ٹریفک جام رہتا ہے۔

کراچی کی بیشتر سڑکیں چاہے وہ شاہراہ فیصل ہو یا ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ ہو یا پھر شاہراہ لیاقت، ٹریفک پولیس کے نامکمل انتظامات، سگنل سسٹم اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کے باعث مختصر فاصلہ طے کرنے میں بھی طویل وقت لگ جاتا ہے۔

اس سلسلے میں محمد یامین خان خود بھی کہتے ہیں کہ کراچی شہر کی آبادی ڈیڑھ کروڑ کے قریب پہنچی گئی ہے اور گاڑیوں کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ ان کے مطابق آبادی اور ٹریفک کے مناسبت سے نہ تو ٹریفک پولیس کا عملہ ہے اور نہ ہی وسائل اور ایسے میں جب لوگ بھی ٹریفک قوانین کا احترام نہیں کرتے تو مسائل میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مرکزی، صوبائی اور کراچی کی سٹی حکومت نے کئی منصوبے شروع کیے ہیں۔ جس میں فلائی اوور برج بنانا، ہیوی ٹریفک کا شہر سے باہر ہی باہر جانے کے لیے لیاری ایکسپریس وے اور پارکنگ عمارات کی تعمیر بھی شامل ہے۔ لوگ بڑی عمارتیں بناتے ہیں لیکن نقشے کے مطابق پارکنگ نہیں بناتے۔ان کے مطابق سرکلر ریلوے شروع ہونے کا کام بھی ہورہا ہے جس کے بعد لوگوں کو خاصی سہولت مل جائے گی۔

ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ دنیا میں سگنل سسٹم ایسا ہوتا ہے کہ مناسب رفتار سے چلنے والی گاڑی کو تمام سگنل کھلے ملتے ہیں لیکن کراچی میں ایسا نہیں تھا۔ ان کے مطابق اب پچہتر کروڑ روپوں کی لاگت سے سگنل سسٹم کو کمپیوٹرائیز کرنے کا پہلا مرحلا مکمل ہوا ہے اور اب دوسرے مرحلے پر کام جاری ہے۔

ایک بڑا مسئلہ یہ بتایا جاتا ہے کہ منی بسیں اور بسیں مسافروں کو اٹھانے کے لیے جہاں مسافر ہاتھ دیتا ہے گاڑی روک دیتے ہیں
کراچی ٹریفک کا ایک بڑا مسئلہ یہ بتایا جاتا ہے کہ منی بسوں اور بسوں کے ڈرائیور مسافروں کو اٹھانے کے لیے جہاں مسافر ہاتھ دیتا ہے گاڑی روک دیتے ہیں

ٹریفک اہلکاروں کی جانب سے رشوت لینے اور ٹرانسپورٹرز سے بھتہ لینے کے بارے میں سوال پر ’ڈی آئی جی، نے کہا کہ پہلے مینوئل چالان سسٹم ہوتا تھا اور سالانہ اسی لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوتے تھے لیکن اب ٹکٹ چالان سسٹم متعارف کرائے جانے سے تیرہ کروڑ روپے سالانہ جمع ہوتے ہیں۔

ٹریفک اہلکاروں کے رشوت لینے کے بارے میں ایک ٹیکسی ڈرائیور جارج کا کہنا ہے کہ ٹکٹ سسٹم کے بعد اہلکار پیسے مانگتے نہیں بلکہ چالان کی بھاری رقم سے بچنے کے لیے ہم لوگ پندرہ بیس روپے ان کی جیب میں ڈال دیتے ہیں،۔

ٹریفک مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ساڑھے پانچ سو لوگ ٹریفک حادثات کی وجہ سے شہر میں ہلاک ہوئے اور ہلاک شدگان میں پچہتر فیصد لوگوں کی موت سر کی چوٹ کی وجہ سے ہوئی۔ ان کے مطابق کراچی میں چلنے والی چودہ لاکھ گاڑیوں میں سے چار فیصد بسیں، منی بسیں، کوچز اور ٹرک ہیں۔

اس بارے میں پینتیس برس سے شہر میں رکشہ چلانے کے دعویدار ایک بزرگ رکشہ ڈرائیور رستم خان کی رائے بھی ڈی آئی جی سے مختلف نہیں تھی اور انہوں نے کہا کہ ٹریفک جام کرنے کا سب سے زیادہ ذمہ دار بسوں، کوچز، منی بسوں اور ٹرکوں پر عائد ہوتا ہے۔

یامین خان کے مطابق کراچی میں گاڑیوں کی کل تعداد کا پیتالیس فیصد موٹر سائیکلیں اور چالیس فیصد کاریں ہیں اور سر کی چوٹ ہیلمٹ نہ پہننے اور سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کی وجہ سے ہی لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اگر اپنی ذمہ داری کا احساس کریں تو بھی حادثات سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے۔

کراچی میں امراض قلب کے قوی ادارے کے ایک ڈاکٹر افتخار احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑی ذمہ داری ٹریفک انتظامیہ کی ہے۔ ان کے مطابق کئی بار انتہائی ایمرجسنی کی صورت میں ایمبولینس کو راستہ نہیں ملتا ارو ٹریفک والے اس کا نوٹس نہیں لیتے جس کی وجہ سے بعض اوقات مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔

اس بارے ڈی آئی جی ٹریفک سے جب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ دل کے جناح ہسپتال کے قریب ’کارڈیولاجی سینٹر، کو علیحدہ راستہ فراہم کیا گیا ہے جبکہ اس سڑک کو یک طرفہ بنانے اور ایمبولنس وغیرہ کے لیے علیحدہ لین بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

کراچی
پاکستان مختلف توع کی تمام گاڑیوں کی ایک تہائی تعداد کراچی میں ہے اس کے علاوہ دیگر سماجی عوامل بھی ہیں جو دشواریاں پیدا کر رہے ہیں

شاہراہ فیصل پر ایئر پورٹ جاتے ہوئے کور ہیڈ کوارٹر سے تھوڑا آگے والے چوک پر کھڑے ٹریفک پولیس کے حوالدار محمد ادریس سے جب ٹریفک مسائل کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بھی اپنا غصہ ایک تو بسوں اور منی بسوں کے ڈرائیوروں پر اتارا۔ لیکن انہوں نے مسافروں پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ دوقدم چل کر بس سٹاپ تک آنے کے بجائے بیچ سڑک میں ہاتھ دیتے ہیں لالچ میں آکر ڈرائیور وہیں بریک لگاتے ہیں۔

کراچی صدر میں دیگر شہروں کو جانے والی بسوں کی ایک نجی کمپنی کے مینیجر آفتاب احمد خان نے یہ تسلیم کیا کہ سڑکوں پر گاڑیاں نہیں کھڑی کرنی چاہیے لیکن مصروف سڑک پر ان کی کمپنی کی پانچ بڑی کوچز کھڑی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

جب ان سے پوچھا کہ جب آپ مان بھی رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تو خلاف ورزی کیوں کرتے ہو؟ اس کا جواب انہوں نے صرف ایک مسکراہٹ سے دیا۔

کراچی میں ڈی آئی جی ٹریفک کے بقول سڑکوں پر روزانہ دو سو گاڑیوں کا اضافہ ہورہا جس سے یقیناً سڑکوں پر گنجائش سے زیادہ ٹریفک چل رہی ہے۔ لیکن ایسے میں جہاں پولیس کی ذمہ داری ہے اس سے کہیں زیادہ عام لوگوں کو بھی احساس ذمہ داری کرنا ہوگا ورنہ کسی بھی طرح شاید مسائل میں کمی ممکن نہیں ہوسکے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد