کراچی میں ٹرانسپورٹ کی ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز نے سنیچر کے روز ہڑتال کردی، جس کے باعث شہریوں کو شدید سفری مشکلات کا سامنہ ہے۔ شہر کے بیشتر روٹس پر بسیں، منی بسیں اور کوچز بند ہیں اور عام آدمی ٹیکسیوں اور رکشوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ بعض روٹس پر کچھ گاڑیاں چلنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں لیکن اہم اور زیادہ تر روٹس پر بسیں اور کوچز وغیرہ دکھائی نہیں دے رہیں۔ جوگاڑیاں چل رہی ہیں ان کے اندر اور چھتوں پر بھی خاصی تعداد میں لوگ سفر کرتے نظر آرہے ہیں۔ سات جنوری کو بعض ٹرانسپورٹرز کی تنظیموں کے نمائندوں نے چیف سیکریٹری اور صوبائی حکومت کے مختلف نمائندوں سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد ٹرانسپورٹ تنظیموں میں ہڑتال کی اپیل واپس لینے کے سوال پر اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ آل پاکستان ٹرانسپورٹرز اتحاد کی سپریم کونسل کے رہنماؤں حاجی اقبال اور محمد فیض کے گروپ نے ہڑتال سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اپنی گاڑیاں چلانے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں ارشاد بخاری اور دیگر نے ہڑتال کی اپپل برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار برسوں میں ڈیڑھ سو فیصد ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کرایوں میں اس شرح سے اضافہ نہیں ہوا۔ ان کا عویٰ ہے کہ ایسی صورتحال میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار متاثر ہورہا ہے اور متعلقہ لوگوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ارشاد بخاری اور دیگر کا کہنا ہے کہ انہوں نے صوبائی حکومت نہیں بلکہ وفاقی حکومت اور’ آئل ایڈوائزری کمیٹی‘ جوکہ پیٹرولیم کی مصوناعات کی قیمتیں بڑھانے کی مجاز ہے، اس کے خلاف ہڑتال کی ہے۔ صوبہ سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ محمد عادل صدیقی نے ہڑتال کو بلاجواز اور عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے، اربن ٹرانسپورٹ، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر سرکاری اداروں کی گاڑیاں چلائیں لیکن لوگوں کو دشواری پھر بھی پیش آئی ہے۔ وزیر نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم سے بات کی ہے کہ قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کیا جائے۔ ان کے بقول وزیراعظم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ پندرہ جنوری کو آئل ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان حکومت نے گزشتہ چند برسوں سے پیٹرولیم کی قیمتوں کو ’ڈی ریگولرائز‘ کرنے کی پالیسی متعارف کرائی تھی جس کے بعد ہر دو ہفتوں بعد عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے مطابق قیمتوں کا تعین پیٹرولیم کمپنیوں کے نمائندوں پر مشتمل ’ آئل ایڈوائزری کمیٹی‘ کرتی ہے۔ تقریبا دو ہفتے قبل ڈھائی روپے فی لٹر پیٹرول جبکہ پونے دو روپے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا۔ جس کے بارے میں حکومت کا دعویٰ تھا کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود بھی حکومت نے قیمتیں بڑھنے نہیں دیں اور کئی ارب روپے کی سبسڈی دی تھی لیکن مزید بوجھ حکومت برداشت نہیں کرسکتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||