BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 December, 2004, 08:13 GMT 13:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل کی قیمت میں اضافے پر رد عمل

سی این جی کے صارفین میں اضافہ ہوا ہے۔
سی این جی کے صارفین میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں تیل کی مصنوعات میں بڑے پیمانے پر اضافے کا اعلان کیا گیا ہے اور نئے نرخوں کے مطابق اب پٹرول کی قیمت انتالیس روپے پچاس پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے جو پرانی قیمت کے مقابلے میں ڈھائی روپے کا اضافہ ہے۔

اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں ڈیڑھ روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے اور اب اس کی نئی قیمت پچھیس روپے پچاس پیسے ہے ، ہائی سپیڈ ڈیزل پچیس روپے چھیانوے پیسے ، لائٹ ڈیزل بائیس روپے اکتالیس پیسے ، اور ہائی اوکٹین ترتالیس روپے تہتر پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ اضافہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ ہیں۔

قیمتوں میں اضافے پر شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے پٹرول کی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر عوام پر پٹرول بم مار دیا ہے۔

بدھ کی رات پٹرول کی قیمتیں بڑھ جانے کے بعد اقبال ٹاؤن میں واقع ایک پٹرول پمپ پر صارفین پٹرول ڈلوانے کے بعداضافی ادائیگی پر پریشان دکھائی دئیے۔

موجود اضافے کے بعد ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت انتالیس روپے ہ پچاس پیسے اور ڈیزل تقریباً چھبیس ورپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔

اس پٹرول پمپ کے ایک سیلز مین اقبال نے بتایاکہ رات دس بجے سے پہلے پٹرول پمپ پر بے حد رش تھا اور نئی قیمیتوں کا اطلاق ہوجانے کے بعد سیل (فروخت ) نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کئی صارفین ایسے بھی تھے جو پٹرول کی بڑھی ہوئی قیمت سننے کے بعد پٹرول ڈلواۓ بغیر چلے گئے۔

ان کے ساتھی سیلز مین نے بتایاکہ لوگوں میں سی این جی رجحان بڑھ رہا ہے اور ان کے پمپ پر سی این جی یعنی قدرتی گیس ڈلوانے والی گاڑیوں کی تو لائنیں لگی رہتی ہیں لیکن پٹرول ڈلوانے والے نہ ہونے کے برابر ہیں اور ان کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے۔

کالے رنگ کی دس سال پرانی ہنڈا ایکارڈ کار میں سوار ایک شہری نے تین سو روپے کا پٹرول ڈلوانے کے بعد میٹر پر نظر ڈالی تو سیلزمین نے ازخود بتادیا کہ پٹرول کی قیمت بڑھ گئی ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مہنگائی کر کرکے لوگوں کو برباد کر دیا ہے اور کسی قابل نہیں چھوڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی اس قدر زیادہ ہوگئی ہے کہ لوگوں کو کار چھوڑ کر گدھا گاڑی چلا لینی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے ا پنی گاڑی میں گیس بھی لگوائی ہے اور اسے پٹرول پر بھی چلاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اب اس کار کو چلانا ان کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہاہے۔

ایک طالب علم کاشف عمر نے پانچ سو روپے کا پٹرول ڈلوایا اور جب انہیں علم ہوا کہ ایک لیٹر کم ہوگیا ہے تو انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو گدھا سمجھتی ہے اور اس پر جتنا دل چاہتا ہے وزن ڈال دیتی ہے حکومت کو پتا ہے کہ یہ بیچارے عوام بول تو سکتے نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہر چیز پر حکومت نے ٹیکس لگا دیا ہے ان کا خیال تھا کہ مہنگائی کا ڈرامہ چند لوگ اپنے مفاد کے لیے رچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور دوسرے اسلامی ممالک سے پٹرول سستے داموں خریدا جاسکتا ہے لیکن حکام ایسا نہیں کرتے۔

اسی پٹرول پمپ پر ایک اور صاحب ایسے بھی آئے جنہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی رعائتی نرخوں پر پٹرول دے رہی تھی اب اس نے اپنی رعائت واپس لے لی ہے تو اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے تاہم ان صاحب نے اپنا تعارف کرنے سے بھی انکار کردیا ۔

ایک خاتون خانہ عالیہ کا کہنا تھا کہ پہلے ہی گھر گھرستی چلانا اور بجٹ بنانا مشکل ہوتا تھا اب اس مشکل میں مزیداضافہ ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد