BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 May, 2004, 16:29 GMT 21:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیٹرول کی اسمگلنگ

News image
پاکستان کے صوبہ سرحد میں پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر سمگل شدہ پیٹرول کی بہتات کی وجہ سے معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

ان پمپ مالکان نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہ کی تو وہ بھی یہ غیرقانونی پیٹرول فروخت کرنے پر مجبور ہوں گے۔

ایران اور افغانستان سے سمگل شدہ پیٹرول کی گلی گلی دستیابی صرف صوبہ سرحد تک ہی محدود نہیں بلکہ بلوچستان اور سندھ کے اکثر علاقے بھی اس کی زد میں ہیں۔

پان والا، کونسلر حضرات، بے روزگار غرض ہر کوئی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے جبکہ حکومت نے مسلسل چپ سادھی ہوئی ہے۔

ایک گاڑی کے مالک حضرت خان کو شکایت تھی کہ حکومت تو صرف ہر پندرہ روز کے بعد پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے لئے ہے۔

’اس سمگل شدہ ایندھن جوکہ کچرے سے بھرا اور تول میں کم ہوتا ہے لوگوں کو الٹا نقصعان ہو رہا ہے اگر کوئی سمجھے تو۔’

پیٹرول پمپ مالکان وقتا فوقتا واویلا کرتے رہتے ہیں لیکن بظاہر اس کا غیرقانونی کاروبار پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا اور اس کے برعکس اس کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سرحد پیٹرولیم کارٹیج اینڈ ڈیلرز ایسوسیشن کے سربراہ منصور شریف کا کہنا ہے کہ مسئلہ مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔

’میری ذاتی رائے میں امن و امان یعنی پولیس صوبائی حکومت کے ماتحت ہے لیکن وہ پرواہ اس لئے نہیں کرتی کہ پیٹرول پر سیلز ٹیکس اور دوسرے ٹیکس کی آمدن مرکزی حکومت کی جیب میں جاتی ہے۔‘

افغانستان سے پیٹرول کی سمگلنگ کی وجہ منصور شریف نے بتایا کہ پاکستان میں پیٹرول سینتیس روپے لیٹر مہیا کیا جا رہا ہے جبکہ یہی تیل افغانستان سے چودہ روپے میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس میں سے صرف پانچ فیصد وہاں استعمال ہوتا ہے باقی سب پاکستان مختلف طریقوں سے واپس آ جاتا ہے۔

اس غیرقانونی کاروبار کے فروغ کی ذمہ داری پمپ مالکان حکومت پر ڈالتے ہیں۔ منصور شریف نے حکومت پر بے حسی کا الزام لگایا اور کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ چاہے جتنی اچھی پالیسیوں کا اعلان کریں پیٹرول مافیا سب کچھ الٹا کرنے پر تلا ہوا ہے۔

پشاور میں بدھ کے روز ایک اخباری کانفرنس میں پمپ مالکان نے بھی حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں سمگل شدہ تیل فروخت کرنے کی دھمکی دی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد