پیٹرول کی اسمگلنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر سمگل شدہ پیٹرول کی بہتات کی وجہ سے معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان پمپ مالکان نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہ کی تو وہ بھی یہ غیرقانونی پیٹرول فروخت کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ایران اور افغانستان سے سمگل شدہ پیٹرول کی گلی گلی دستیابی صرف صوبہ سرحد تک ہی محدود نہیں بلکہ بلوچستان اور سندھ کے اکثر علاقے بھی اس کی زد میں ہیں۔ پان والا، کونسلر حضرات، بے روزگار غرض ہر کوئی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے جبکہ حکومت نے مسلسل چپ سادھی ہوئی ہے۔ ایک گاڑی کے مالک حضرت خان کو شکایت تھی کہ حکومت تو صرف ہر پندرہ روز کے بعد پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے لئے ہے۔ ’اس سمگل شدہ ایندھن جوکہ کچرے سے بھرا اور تول میں کم ہوتا ہے لوگوں کو الٹا نقصعان ہو رہا ہے اگر کوئی سمجھے تو۔’ پیٹرول پمپ مالکان وقتا فوقتا واویلا کرتے رہتے ہیں لیکن بظاہر اس کا غیرقانونی کاروبار پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا اور اس کے برعکس اس کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سرحد پیٹرولیم کارٹیج اینڈ ڈیلرز ایسوسیشن کے سربراہ منصور شریف کا کہنا ہے کہ مسئلہ مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔ ’میری ذاتی رائے میں امن و امان یعنی پولیس صوبائی حکومت کے ماتحت ہے لیکن وہ پرواہ اس لئے نہیں کرتی کہ پیٹرول پر سیلز ٹیکس اور دوسرے ٹیکس کی آمدن مرکزی حکومت کی جیب میں جاتی ہے۔‘ افغانستان سے پیٹرول کی سمگلنگ کی وجہ منصور شریف نے بتایا کہ پاکستان میں پیٹرول سینتیس روپے لیٹر مہیا کیا جا رہا ہے جبکہ یہی تیل افغانستان سے چودہ روپے میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس میں سے صرف پانچ فیصد وہاں استعمال ہوتا ہے باقی سب پاکستان مختلف طریقوں سے واپس آ جاتا ہے۔ اس غیرقانونی کاروبار کے فروغ کی ذمہ داری پمپ مالکان حکومت پر ڈالتے ہیں۔ منصور شریف نے حکومت پر بے حسی کا الزام لگایا اور کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ چاہے جتنی اچھی پالیسیوں کا اعلان کریں پیٹرول مافیا سب کچھ الٹا کرنے پر تلا ہوا ہے۔ پشاور میں بدھ کے روز ایک اخباری کانفرنس میں پمپ مالکان نے بھی حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں سمگل شدہ تیل فروخت کرنے کی دھمکی دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||