تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اختتام ہفتہ پر کی گئی سرتوڑ کوششوں کے باوجود کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی جائے قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ حالیہ اضافہ سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک سعودی عرب کے اس وعدے کے بعد آیا ہے کہ وہ تیل کی پیدا وار میں اضافہ کرے گا۔ دریں اثناء تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنطیم، اوپیک، میں شامل ممالک کے وزراء نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے تیل کی پیداوار میں اضافے کے باوجود اپنی پیداوار بڑھانے کے لئے اپنے آپ پر دباؤ نہیں ڈالیں گے۔ ان کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب امریکہ میں تیل کی قیمت ایک ڈالر فی بیرل بڑھ گئی ہے اور اس طرح یہ 41.70 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی تیل کی پیداوار میں یومیہ 9.1 ملین بیرل کا اضافہ کرے گا تاکہ قیمتوں میں اضافے کو روکا جا سکے۔ مبصرین نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب کے پیداوار میں اضافے کے باوجود تیل کی طلب میں کمی نہیں ہو گی۔ دریں اثناء سعودی عرب کے فیصلے نے اوپیک کو تقسیم کر دیا ہے۔ سعودی عرب کی مخالفت کرنے والوں میں وینزویلا اور لیبیا شامل ہیں۔ وینزویلا دنیا میں تیل پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔ لیبیا کے تیل کی وزیر نے کہا ہے کہ ’وہ (سعودی عرب) ایسا نہیں کر سکتے، یہ غلطی ہے، سعودی عرب اکیلے یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ پیداوار بڑھانا ہے‘۔ ایران کے تیل کے وزیر نے کہا ہے کہ ہمارے پاس کئی تجاویز ہیں، ہم یہ فیصلہ بیروت میں کریں گے کہ کون سے اعداد ہمیں مطلوب ہیں اور کون سے اقدامات ہمیں کرنے ہیں‘۔ اس سے قبل امیر ممالک کی تنظیم جی سیون کے رکن ممالک کے وزارء خزانہ نے نیو یارک میں ایک اجلاس کے دوران تیل سستا کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ جی سیون کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’تیل کی قیمتوں میں کمی سے پوری دنیا کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا‘۔ جی سیون نے واضح کیا کہ وہ چاہتی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے لئے تیل پیدا کرنے والے ممالک تیل کی پیداوار میں اضافہ کریں۔ عالمی منڈی میں اس وقت تیل کی قیمت چالیس ڈالر فی بیرل ہے۔ اوپیک کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں عراق کی صورتحال سمیت کئی عوامل شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||