تیل مہنگا، عالمی منڈیاں متاثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرق وسطیٰ میں، جہاں سے دنیا کا ستر فیصد تیل حاصل کیا جاتا ہے، غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور عالمی منڈیوں پراس کا منفی اثر پڑا ہے۔ نیو یارک میں تیل کے ایک بیرل کی قیمت انیس سو تراسی کے بعد سے بیس سال میں سب سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اس وقت امریکہ میں کاروں کے لئے تیل کی قیمت تقریباً دو ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے جو اس ملک کے لئے بہت زیادہ ہے اور صدر بُش کے لئے سیاسی طور پر نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں حصص کی قیمت میں ایک فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ یورپ اور ایشیا میں بھی حصص کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں حصص کی قیمتوں میں تین فیصد کمی ہوئی۔ تیل کی بڑھتی ہوئی مانگ اور نتیجاتاً اس کی قیمت میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان وجوہات میں عراق کی صورتحال، چین میں تیل کی بڑھتی ہوئی مانگ، امریکہ میں ذخائر کی کمی اور ان تمام عوامل کے پیش نظر مغربی ممالک میں تیل کو ذخیرہ کرنے کا رجحان شامل ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے ادارے اوپیک نے پیر کو عندیہ دیا کہ وہ بڑھتی ہوئی مانگ سے نمٹنے اور عالمی پیداوار میں رکاوٹ کے امکان کو ختم کرنے کے لئے عنقریب تیل کی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اوپیک کے صدر پورنومو یسگیانتورونے کہا کہ ’تیل کی قیمتوں میں اضافہ کساد بازاری کا باعث ہو سکتا ہے۔ ہم تیل کی قیمتوں میں اضافے سے خوش نہیں ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اوپیک کے ارکان بائیس مئی کے صنعتی اجلاس میں تیل کے پیداواری کوٹے میں اضافے کی منظوری دے سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس کے لئے اوپیک کے تمام وزراء کا متفق ہونا ضروری ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپیک کی طرف سے تیل کی پیداوار میں اضافے سے بھی تیل کی قیمتوں میں کمی کا زیادہ امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اوپیک پہلے ہی اپنے یومیہ کوٹے سے بیس لاکھ بیرل زیادہ تیل پیدا کر رہا ہے۔ سال رواں کے آغاز کے بعد تیل کی قیمتوں میں پچیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||