امریکہ میں مہنگے تیل کی پریشانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاستدانوں کے لۓ اس سے بڑی ترغیب اور کیا ہوگی کہ ایک ایسے اثاثے پر ان کا قبضہ رہے جس سے طاقت پر ان کی گرفت یقینی ہو جائے۔ اس دفعہ ایسا صدربش کے ساتھ ہے۔ خزاں سن دو ہزار میں صدر کلنٹن کو اس صورتحال کا سامنا تھا۔ اب جبکہ امریکیوں کو ایک گیلن تیل کی قیمت دو ڈالر ادا کرنا پڑ رہی ہے تو صدر بش کے لۓ یہ آزمائش کی گھڑی ہو گی کہ وہ ایک ملین بیرل ریزرو تیل کو استعمال کی اجازت دیں تاکہ منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور ووٹروں کی مشکلات میں کمی ہوسکے۔ کلنٹن انتظامیہ نے بھی تو تیس ملین بیرل تیل اس وقت مارکیٹ میں لانے کی اجازت دی تھی جب چار سال پہلے نائب صدر الگور نے جارج بش کے خلاف انتخاب لڑا۔ لیکن اس سے الگور کو رتی بھر بھی فائدہ نہ ہوا۔ اول تو وہ ہار گۓ دوئم یہ کہ چند ہی دنوں میں ایک بیرل خام تیل کی قیمتیں سینتیس ڈالر سے تیس ڈالر گر گئیں اور پھر چھتیس ڈالر تک پہنچ گئیں۔ انتخابات کے بعد کچھ اور وجوہات کی بناء پر قیمتیں بتیس ڈالر ہوگئیں۔ سیاستدانوں کے لۓ سبق۔ منڈی آپ کی سوچ سے زیادہ دانا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صدر بش کو یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈیموکریٹس کے اصرار کے باوجود صدر بش سٹرٹیجک پیٹرولیم ریزرو کو قیمتوں میں کمی لانے کے لۓ استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ گیارہ ستمبر کے بعد صدر بش نے حکم دیا تھا کہ عالمی حالات کے پیش نظر ان ریزروز کوجمع کرنا ضروری ہے۔ اس وقت یہ ریزروز چھ سو ساٹھ ملین بیرل سے ذرا کم ہے مگر حکومت اگلے سال تک اسے سات سو ملین بیرل تک لے جانا چاہتی ہے۔ شائد صدر بش یہ جانتے ہیں کہ ریزروز سے تیل کے اخراج کا اثر سمندر میں قطرے کے برابر ہوگا اور اس کا کوئی دوررس نتیجہ نہیں نکلے گا۔ شائد ڈیموکریٹس بھی یہ جانتے ہیں مگر وہ سیاسی مقصد کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ تیل کی قیمتوں کا انحصار سیاست پر ہوگا مگر واشنگٹن سے دور کی سیاست۔ اصل محرک اعراق کے حالات ہونگے بجائے انتخابات میں نعرہ بازی۔ دنیا کا ستر فی صد تیل مشرق وسطیٰ پیدا کرتا ہے اور وہاں پر تیل کی تنصیبات کی تباہی سے قیمتیں تیزی سے بڑھیں گی۔ امریکہ میں پیٹرول پمپ سیاست کا انحصار اعراق کی صورتحال پر ہوگا۔ تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر گیلن کے اضافے کے علاوہ مختلف کمپنیاں ایندھن کی قیمت کو پورا کرنے کے لۓ قیمتیں بڑھا رہی ہیں۔ صارفین کے لۓ مشکل وقت کا مطلب صدر بش کے لۓ مشکل سیاسی وقت ہے۔ بہر حال حالات اتنے بھی برے نہیں۔ پچھلے پچاس برس میں تیل کی قیمتوں میں تین بڑے اصافے ہوۓ: تیس سال پہلے یوم کپور کی لڑا ئی کے بعد- انیس سواناسی کی ایران ا عراق لڑائی کے بعد اور پچھلی خلیج کی لڑائی کے بعد۔ ہر مرتبہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ مندے کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ اگر افراط زر کو ذہن میں رکھا جائے تو اس مرتبہ تیل کی اصل قیمت پہلے کے مقا بلے میں کم ہے۔ ڈیو ئشے بینک کے مطابق: ” یہ کہنا غلط ہو گا کہ موجودہ تیل کی قیمیوں میں اضافہ کسی طرح سے بھی شدید ہے”۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے۔ مستقبل میں حالات مزید بگڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ایک تخمینے کے مطابق اگلے بیس سالوں میں دنیا میں تیل کا استعمال پچاس فی صد بڑھ جاۓ گا۔ تیل کا اضافی مطالبہ چین اور بھارت سے ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||