امیر ممالک کی تیل سستا کرنے کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امیر ممالک کی تنظیم جی سیون کے رکن ممالک کے وزارء خزانہ نے نیو یارک میں ایک اجلاس کے دوران تیل سستا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جی سیون کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’تیل کی قیمتوں میں کمی سے پوری دنیا کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا‘۔ جی سیون نے واضح کیا کہ وہ چاہتی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے لئے تیل پیدا کرنے والے ممالک تیل کی پیداوار میں اضافہ کریں۔ عالمی منڈی میں اس وقت تیل کی قیمت چالیس ڈالر فی بیرل ہے۔ برطانوی وزیر خزانہ گارڈن براؤن کی طرف سے پڑھے گئے ایک بیان میں جی سیون نے اپیل کی کہ ’ ہم تیل پیدا کرنے والے تمام ممالک سےایسے اقدامات کی اپیل کرتے ہیں کہ تیل کی قیمتیں اس سطح پر لائیں جس سے خاص طور پر غریب ممالک کے لئے اقتصادی خوشحالی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے‘۔ عمومی طور پر جی سیون نے عالمی اقتصادی صورتحال کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ سن دو ہزار تین دو ہزار چار میں چار عشاریہ پچیس فیصد تقری کی شرح گزشتہ پندرہ سالوں میں ریکارڈ ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تیل قیمتیں ایک ’رِسک‘ یعنی خطرہ ہے۔ جی سیون کے اجلاس سے ایک روز قبل ایمسٹرڈیم میں تیل پیدا کرنے والے مملاک کی تنظیم اوپیک کے تیل کے وزراء کا اجلاس ہوا جس میں تیل کی قیمتوں پر تشویش کا اظہار تو کیا گیا لیکن پیداوار بڑھانے کے بارے میں فیصلے کو تین جون میں بیروت میں ہونے والے اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔ جی سیون کے بیان کو سعودی عرب کی طرف سے تیل کی پیداوار بڑھانے کے مطالبے کی حمایت کہا جا رہا ہے۔ سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں یومیہ بیس لاکھ بیرل کے اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن اس کے مطالبے کو ایمسٹرڈیم میں زیادہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ جی سیون کے اجلاس سے قبل فرانسیسی اور برطانوی وزراء خزانہ نے سعودی عرب کی تعریف کی تھی۔ سعودی عرب کی مخالفت کرنے والوں میں وینزویلا اور لیبیا شامل ہیں۔ وینزویلا دنیا میں تیل پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔ اوپیک کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں عراق کی صورتحال سمیت کئی عوامل شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||