پیٹرول کی قیمتوں پر ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف آج بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پہیہ جام ہڑتال رہی۔ اندرون بلوچستان اور بلوچستان کا دیگر صوبوں کے ساتھ سڑک کا رابطہ منقطع رہا جبکہ پولیس نے پچیس ٹرانسپورٹرز کو گرفتار کیا اور بعد میں رہا کر دیا۔ کوئٹہ شہر میں نجی گاڑیاں اور ٹیکسیاں چلتی رہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں اصافے سے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر اثر پڑا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوا ہے اور آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں آج بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز نے پہیہ جام ہڑتال کی ہے اور ٹرانسپورٹرز نے کہا ہے کہ بلوچستان جیسا پسماندہ صوبہ اس مہنگائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مشترکہ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر حاجی جمعہ خان نے کہا ہے کہ دیگر صوبوں میں بھی ان کی بات چیت جاری ہے اور یہ احتجاج اب بلوچستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ بلوچستان میں ایرانی تیل نسبتاً کم قیمت پر آسانی سے مل جاتا ہے ۔ ان ٹرانسپورٹرز پر بھی یہ الزام عائد ہے کہ یہ لوگ ایرانی تیل استعمال کرتے ہیں اور کرائے پاکستانی تیل کی قیمت کے حساب سے وصول کرتے ہیں۔ عام آدمی مہنگائی سے پریشان تو ضرور ہے لیکن اس طرح کے احتجاج میں شرکت نہیں کرتا ہے۔ چند دن قبل بلوچستان اسمبلی نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف ایک قرارداد پاس کی تھی جس میں محرک نے کہا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ڈیزل کی قیمتوں میں چودہ روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||