BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 October, 2004, 21:22 GMT 02:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تیل کی فراہمی کے لیےاستحکام چاہیے‘
ٹیکساس کی ایک ریفائنری
ٹیکساس کی ایک آئل ریفائنری
اگلے پچیس سے تیس سال میں عالمی سطح پر توانائی کی مانگ میں ساٹھ فیصد اضافہ متوقع ہے جس سے دنیا کا تیل پر انحصار بڑھ جائے گا۔

ورلڈ اینرجی آؤٹ لُک رپورٹ 2004 کے مطابق خوشی کی خبر یہ ہے کہ زمین پر ابھی اتنا تیل اور گیس موجود ہے جس سے توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

جہاں تک بُری خبر کی بات ہے، تو سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کیا جائے۔

آلودگی کا خطرہ
دنیا کو تیل کے زیادہ استعمال کے ساتھ ماحول کو نقصان پہچانے والی گیس کاربن ڈائی آکسائڈ کی پیداوار میں بھی ساٹھ فیصد اضافہ برداشت کرنا پڑے گا۔ کاربن ڈائی آکسائڈ کی پیداوار کا اہم ذریعہ کاریں، ٹرک اور بجلی گھر ہیں۔

کاربن ڈائی آکسائڈ کی پیداوار میں زیادہ تر اضافہ ترقی پذیر ممالک میں ہوگا جہاں اقتصادی ترقی کے ساتھ کاروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

پیرس میں قائم بین الاقوامی توانائی ایجنسی آئی ای اے کے مطابق اس رجحان کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ’توانائی کی غربت‘ ختم کی جائے۔

آئی ای اے کے مطابق دنیا میں توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ ساتھ ’ڈیڑھ ارب غریب ترین لوگوں کو بجلی تک رسائی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی 2030 تک ایسا ہوگا‘۔

سلامتی
رپورٹ میں کہا گیا کہ کہ تیل کی بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ اس میں رکاوٹ ڈالنے کے امکانات میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

آئی ای اے کا کہنا ہے کہ چین اور بھارت دو ایسے ممالک ہیں جن کا تیل پیدا کرنے والے ایسے ممالک پر انحصار بڑھ رہا جن میں میں سے کچھ سیاسی طور پر غیر مستحکم ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاں تیل کے کنووں اور پائپ لائن کو بند کیا جا سکتا ہے، تیل کے ٹینکروں کو روکا جا سکتا ہے اور دہشت گردی کے حملوں کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ یہ تمام باتیں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث ہوں گی۔

تیل نکالنے کی قیمت
زمین سے تیل حاصل کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع کو غریب ممالک تک پہنچانے کے اخراجات بھی تیل کی قیمت میں اضافے کی وجہ بنیں گے۔

آئی ای اے کے مطابق توانائی کی مانگ پوری کرنے کے لیے 2030 تک سولہ ٹرلین ڈالر یا سالانہ 568 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس رقم کا زیادہ تر حصہ بجلی کے سیکٹر پر صرف ہوگا۔

آئی ای اے کا کہنا ہے کہ وسائل کے معاملے میں ترقی پذیر ممالک کو سب سے زیادہ چیلنج کا سامنا ہوگا۔ ان ممالک کی ضروریات ان کی معیشتوں سے بڑی ہیں اور وہاں سرمایہ کاری کا رسک بھی زیادہ ہے۔

عالمی مالیاتی نظام وسائل فراہم کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے حالات کا درست ہونا ضروری ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد