’تیل کی فراہمی کے لیےاستحکام چاہیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگلے پچیس سے تیس سال میں عالمی سطح پر توانائی کی مانگ میں ساٹھ فیصد اضافہ متوقع ہے جس سے دنیا کا تیل پر انحصار بڑھ جائے گا۔ ورلڈ اینرجی آؤٹ لُک رپورٹ 2004 کے مطابق خوشی کی خبر یہ ہے کہ زمین پر ابھی اتنا تیل اور گیس موجود ہے جس سے توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک بُری خبر کی بات ہے، تو سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کیا جائے۔ آلودگی کا خطرہ کاربن ڈائی آکسائڈ کی پیداوار میں زیادہ تر اضافہ ترقی پذیر ممالک میں ہوگا جہاں اقتصادی ترقی کے ساتھ کاروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پیرس میں قائم بین الاقوامی توانائی ایجنسی آئی ای اے کے مطابق اس رجحان کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ’توانائی کی غربت‘ ختم کی جائے۔ آئی ای اے کے مطابق دنیا میں توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ ساتھ ’ڈیڑھ ارب غریب ترین لوگوں کو بجلی تک رسائی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی 2030 تک ایسا ہوگا‘۔ سلامتی آئی ای اے کا کہنا ہے کہ چین اور بھارت دو ایسے ممالک ہیں جن کا تیل پیدا کرنے والے ایسے ممالک پر انحصار بڑھ رہا جن میں میں سے کچھ سیاسی طور پر غیر مستحکم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاں تیل کے کنووں اور پائپ لائن کو بند کیا جا سکتا ہے، تیل کے ٹینکروں کو روکا جا سکتا ہے اور دہشت گردی کے حملوں کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ یہ تمام باتیں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث ہوں گی۔ تیل نکالنے کی قیمت آئی ای اے کے مطابق توانائی کی مانگ پوری کرنے کے لیے 2030 تک سولہ ٹرلین ڈالر یا سالانہ 568 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس رقم کا زیادہ تر حصہ بجلی کے سیکٹر پر صرف ہوگا۔ آئی ای اے کا کہنا ہے کہ وسائل کے معاملے میں ترقی پذیر ممالک کو سب سے زیادہ چیلنج کا سامنا ہوگا۔ ان ممالک کی ضروریات ان کی معیشتوں سے بڑی ہیں اور وہاں سرمایہ کاری کا رسک بھی زیادہ ہے۔ عالمی مالیاتی نظام وسائل فراہم کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے حالات کا درست ہونا ضروری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||