سندھ:ججوں کااغوا، وکلاء کی ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شکارپور میں اغوا ہونے والے دو ایڈیشنل ججوں کی بازیابی کے لیے کراچی کے وکلا کا احتجاج جاری ہے۔ جمعرات کو کراچی بارایسوسی ایشن کے تحت ہونے والے احتجاج کے پہلے روز وکلا نے عدالتوں کا بائکاٹ کیا جبکہ جمعہ کو بھی عدالتوں کے بائکاٹ کے ساتھ ساتھ انہوں نے سٹی کورٹ کے باہر ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دیا جس میں تقریباً پندرہ سو وکلا شریک تھے۔ اس موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر محمود الحسن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ وہ اخباری بیانات دینے کے بجائے جج صاحبان کی بازیابی کو یقینی بنائیں کیونکہ اس واقعے کے بعد جج صاحبان عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اغوا کی وارداتیں ہمیشہ منصوبہ بندی کے ساتھ ہوتی ہیں اور اس واقعے میں بھی اغوا کرنے والوں کو یہ پتہ تھا کہ وہ ججوں کو اغوا کررہے ہیں۔ کراچی بار ایسوسی ایشن پیر کو اپنی انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرے گی تاہم پیر کو وکلاء عدالتوں کا بائیکاٹ نہیں کرینگے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||