’پٹرول کی قیمت بڑھانا مجبوری تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں متعلقہ وزارت کے سیکریٹری احمد وقار نے کہا ہے کہ گزشتہ ساڑھے چھ ماہ کے دوران قیمتوں میں مسلسل اضافے کے رجحان کی وجہ سے حکومت نے تینتیس ارب روپوں کا بوجھ برداشت کیا لیکن اب صورتحال قابو سے باہر ہوگئی۔ انہوں نے یہ بات جنوبی ایشیا کے ممالک کے تعاون کی تنظیم’سارک‘ کے توانائی کے بارے میں ورکنگ گروپ کے اجلاس کا افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ پاکستان میں بدھ کے روز پیٹرول کی قیمت فی لٹر ڈھائی روپے سے بھی زیادہ جبکہ ڈیڑھ روپیا فی لٹر مٹی کے تیل اور ایک روپیا چھتیس پیسہ فی لٹر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ جسے ایک وقت میں بہت بڑا اضافہ کہا جارہا ہے۔ سیکریٹری پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے کافی کوشش کی کہ غریب عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جائے اور یہ ہی وجہ ہے کہ چھ ماہ میں تینتیس ارب روپوں کا بوجھ حکومت نے برداشت کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب سے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو’ڈی رگولرائیز، کیا ہے اس وقت سے نجی کمپنیاں ہر پندرہ دن میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو مد نظر رکھتے ہوئے قیمتوں کو کم زیادہ کرتی ہیں۔ احمد وقار کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ساڑھے چھ ماہ سے ہونے والے اضافے کے دوران حکومت نے بوجھ عوام پر پڑنے نہیں دیا۔ اب جب عالمی مارکیٹ میں فی بیرل قیمی پچاس ڈالر کی تاریخی حد کو پہنچی تو اس کا اثر ظاہر ہے کہ مارکیٹ پر پڑنا ہے۔ سارک کے توانائی کے متعلق ورکنگ گروپ کا دو روزہ اجلاس جمعہ کو بھی جاری رہے گا جس میں رکن ممالک کے درمیان اس شعبے میں تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کے تجربے اور مہارت سے استفادہ کرنے کی مختلف تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||