پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ دنوں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں تاجر اور ٹرانسپورٹر برادری نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ تاجر گرینڈ الائنس، پبلک ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور لوکل ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے یہ احتجاجی مظاہرہ پشاور پریس کلب کے سامنے منعقد کیا۔ اس سے قبل اس احتجاج میں شامل تقریبا دو سو مظاہرین نے شعبہ چوک سے پریس کلب تک احتجاجی مارچ کیا جس سے شہر کی اس مصروف سڑک پر ٹریفک درہم برہم ہوگئی۔ مظاہرین نے سیاہ پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی کے خلاف عبارتیں درج تھیں۔ مظاہرین نے حکومت اور مہنگائی کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ مظاہرہ کے بعد احتجاج کرنے والے افراد پرامن طور پرمنتشر ہوگئے۔ مظاہرین سے تاجر اور ٹرانسپورٹ تنظیموں کے رہنماؤں نے خطاب کیا اور حکومت کو تیس دسمبر تک پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کی مہلت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ صوبائی سطح پر احتجاجی مہم شروع کر سکتے ہیں۔مقررین نے سرحد اور پشاور کی ضلعی حکومتوں پر بھی اس اضافے پر خاموشی سادھے رہنے پر تنقید کی اور کہا کہ وہ اس اضافے کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کر رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||