بلوچستان تاریکی میں ڈوب گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کی ایک واردات میں کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر حصوں کو بجلی فراہم کرنے والی لائن کے چار کھمبوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ الیکٹریکل کمپنی کے سربراہ بریگیڈیر تصدق حسین شاہ نے بتایا کہ تین کھمبے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ ایک کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی نےاس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ اس نےضلع نصیر آباد کی تحصیل چتھر میں بجلی کے ٹاور دھماکوں سے اڑائےہیں۔نصیر آباد میں صحافیوں نے دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔ آزاد بلوچ نے، جو اپنے آپ کو بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان بتاتے ہیں، نصیر آباد میں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بلوچستان کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ٹرینوں پر سفر نہ کریں کیونکہ ان کے بقول بلوچ لبریشن آرمی کا اگلا ٹارگٹ کوئٹہ آنے جانے والی ٹرینیں بھی ہو سکتی ہیں۔ اتوار کو کوئٹہ میں دو بم دھماکوں کی اطلاع بھی ملی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مقامی قبائلیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں اب تیزی آ گئی ہے۔ یہ قبائلی سیاسی خودمختاری اور صوبے کی تیل اور گیس کی صنعت سے رائلٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||