حکومت نواز قبائیلی رہنما ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے حکومت نواز قبائلی کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ پینتیس سالہ شریعت خان کو اس کے آبائی گاؤں ٹل کے قریب اس کی گاڑی روک کر نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا- حملے میں شریعت خان کا محافظ بھی زخمی ہوا ہے البتہ اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ حکام ہلاکت کی وجہ کے بارے میں خاموش ہیں تاہم مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ مشتبہ طالبان عسکریت پسند ان پر حکومت کے لئے جاسوسی کا شک کرتے تھے۔ یہ گزشتہ دس روز میں وزیرستان میں اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں وانا اور مکین کے علاقوں میں حکومت کا ساتھ دینے کے شک میں دو قبائلیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ شریعت خان شمالی وزیرستان میں سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے مقامی صدر بھی تھے۔ وہ علاقے کی کافی جانی پہچانی شخصیت بتائے جاتے ہیں۔ انہیں بعد میں آج سہ پہر ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||