BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 March, 2005, 20:08 GMT 01:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل: غیرملکیوں کی حفاظت سخت

News image
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی صورت حال میں بہتری آ رہی ہے
پیر کے روز ایک برطانوی امدادی کارکن کا ہلاکت کے بعد افغانستان کے دارالحکومت کابل میں کام کرنے والی امدادی ایجنسیوں نے اپنے حفاظتی انتظامات انتہائی کڑے کر دیے ہیں۔

بعض اداروں نے اپنے عملے کو نقل و حرکت محدود کرنے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق برطانوی شہری سٹیون میکوئین کو پیر کے روز اس وقت قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی کار میں جارہے تھے۔

قاتلانہ حملہ کرنے والے دو گاڑیوں پر سوار تھے اور انہوں نے پہلے سٹیون میکوئین کی گاری کا راستہ روکا اور پھر انہیں نشانہ بنایا۔

دارالحکومت کابل میں کافی عرصے کی خاموشی کے بعد سٹیون میکوئین کی ہلاکت نے امدادی و ترقیاتی اداروں کے لیے کام کرنے والے افراد حواس باختہ کر دیا ہے۔

تاہم یہ امید اب بھی کی جاتی ہے کہ سکیورٹی کی عمومی صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔

کابل میں تعینات کیئر افغانستان کے کنٹری ڈائریکٹر پال بارکر کا کہنا ہے کہ وقتی طور پر ان کا ادارہ انتہائی احتیاط سے کام لے رہا ہے۔ کیئر افغانستان میں امدادی کام کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔

’میں نے رات آٹھ بجے کے بعد عملے کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ رات گئے تک اکیلے گاڑی نہ چلائیں۔‘ کئیدوسرے غیر سرکاری اداروں نے بھی ایسے ہی اقدامات کیے ہیں۔

مسٹر میکوئین پیر کی رات ریسٹورنٹ سے اکیلے گھر جار رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔

تاہم کیئر کے ڈائریکٹر کے مطابق وہ ان پابندیوں کو لاگو کرنے سے پہلے اقوامِ متحدہ کے رد عمل کا انتظار کریں گے۔

اس بارے میں اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں لا رہے جب تک انہیں تحقیقات کے نتیجے میں یہ پتہ نہیں چل جاتا کہ مسٹر میکوئین کے ساتھ ہوا کیا ہے۔

افغان اور افغانستان میں موجود عالمی اہلکاروں کا خیال ہے کہ مسٹر میکوئین کو سوچے سمجھے طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیوں۔

افغانستان میں کام کرنے والے دو ہزار کے لگ بھگ لوگوں میں ایسے بہت سے ہیں جو مسٹر میکوئین کے ہم منصب ہیں یا ان جیسے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ایک مغربی اہلکار، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ جس طرح مسٹر میکوئین کو مارا گیا ہے اس سے تو یہ ایک اجرتی قتل محسوس ہوتا ہے۔

لیکن اس کے باوجود بھی کہ یہ ایک افرادی نوعیت کا قتل محسوس ہوتا ہے سکیورٹی ادارے افغانستان میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو متنبہ کر رہے ہیں کہ وہ احتیاط سے کام لیں۔ اور جب کہیں آ جا رہے ہوں تو اس بات کا جائزہ لے لیں کہ ان کا تعاقب تو نہیں کیا جا رہا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد