کابل بم حملے میں تین ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکام نے کہا ہے کہ دارالحکومت کابل میں سنیچر کو ہونے والے خود کش حملے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق کابل کے مصروف بازار میں جو غیر ملکیوں اور بین الاقوامی سکیورٹی فورس میں بہت مقبول ہے دستی بموں سے لیس ایک شخص فوجیوں کے ایک گروہ کے پاس آیا اور آتے ہی بم چلا دیے۔ حملہ آور کے علاوہ ایک گیارہ سالہ لڑکی اور ایک امریکی مترجم خاتون بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئیں۔ کابل میں بی بی سی اردو سروس کے عُمر آفریدی نے واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ زخمی ہونے والوں میں بین الاقوامی فوج کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ یہ حملہ کابل کے وسط میں کوچۂ مرغاں میں ہوا جہاں دن کے وقت گہما گہمی رہتی ہے۔ حملہ کابل کے مقامی وقت کے مطابق شام کو ہوا۔ طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ ان کی طرف سے کیا گیا ہے۔ دو ہفتے پہلے ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد کابل میں یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||