BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 October, 2004, 12:50 GMT 17:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا طالبان ختم ہو گئے ہیں؟
زابل میں طالبان کا گروہ
زابل میں طالبان کا گروہ
افغانستان میں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں گڑبڑ کرنے میں ناکامی کے سبب اب یہ سوال منظر عام پر آنے لگا ہے کہ سخت گیر اسلامی موقف کے حامی طالبان کا مستقبل کیا ہو گا؟

اگرچہ انتخابات کے دوران طالبان نے چند حملے کیے جو لاکھوں ووٹروں کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے کافی ثابت نہ ہوئے۔

کیا اس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ افغانستان میں شدت پسند تحریک کا خاتمہ ہو گیا ہے؟

جنوبی افغانستان میں موجود امریکی اتحادی افواج کے کمانڈر کرنل ڈِک پیڈرسن کے خیال میں یہ تحریک تقریباً اپنے اختتام ہی کو پہنچ چکی ہے۔

طالبان کے عروج کا دور
طالبان کے عروج کا دور

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کرنل پیڈرسن نے کہا کہ ’ہم افغان عوام کی منظم کامیابی کی راہ پر گامزن ہیں۔ لوگوں کی اس قدر بڑی تعداد کا ووٹ دینے آنا ان کے دلی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ طالبان کے بارے میں یہ خیال عام ہوتا جا رہا ہے کہ وہ افغانوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ اور وہ ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

طالبان کے سابق گڑھ صوبہ قندھار کے گورنر انجینیئر یوسف پشتون کا کہنا ہے کہ ’طالبان کو اب بھی مشرق وسطیٰ اور پاکستان سے خطیر فنڈ مل رہے ہیں۔‘ لیکن یہ رقم طالبان کے عام سپاہیوں تک نہیں پہنچتی جس کے سبب ان کی بے یقینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

یوسف پشتون کا کہناہے کہ پاکستان کو طالبان اور ان کے حامیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے مزیداقدامات کی ضرورت ہے۔

طالبان کا زور کم ہو رہا ہے: امریکہ
طالبان کا زور کم ہو رہا ہے: امریکہ

تاہم قندھار شہر کی گلیوں میں اگر عام لوگوں سے بات چیت کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ طالبان کی بڑے پیمانے پر، بالواسطہ اور بلاواسطہ، حمایت موجود ہے۔

گھڑیاں فروخت کرنے والے شبدالنافع نے کہا کہ ’میں شروع سے آخر تک طالبان کے ساتھ رہا۔ ان لوگوں نے ملک میں اسلام اور امن کو فروغ دیا اور اسی وجہ سے میں نے ان کا ساتھ دیا۔ طالبان سنجیدگی سے نئی فوج تیار کر رہے ہیں اور اگر امریکہ واپس چلا جاتا ہے تو طالبان تین دن میں واپس آ جائیں گے۔ اگر وہ لوٹ آتے ہیں تو میں ان کے ساتھ مل کر کام کروں گا۔‘

قندھار کے دیگر باشندے اگرچہ طالبان کے اس قدر حامی نہیں لیکن وہ ان کی اچھائیوں کو بھلانے پر بھی تیار نظر نہیں آتے۔

جنوبی افغانستان کے سیاستدانوں کا مطالبہ ہے کہ اقتدار میں موجود حکام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طالبان کے حامیوں کو سیاست کے دھارے میں واپس لانے کی ضرورت ہے۔ گورنر یوسف پشتون کے خیال میں ایسا کرنے سے انتہا پسندوں کا زور کم ہو سکتا ہے۔

طالبان کے سابق رکن اور صوبہ زابل کے گورنر خیال محمد حسینی بھی اس خیال سے متفق ہیں کہ بے گناہ طالبان ارکان کو امن کے عمل میں شریک کیا جانا چاہیے اور ان کے ساتھ عام افغانوں کا سا سلوک روا رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اگر افغانستان کی آئندہ قیادت امن و یکجہتی کی خواہاں ہے تو اسے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد