دو لاکھ تھے، پندرہ ہزار ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل میں رہنے والے سکھوں کا احوال جاننے کے لیے میں تیمورشاہی کے علاقے میں واقع بازارِ امید گیا جہاں کئی سکھ کپڑے کی دکان کرتے ہیں۔ ایک دکاندار دلیپ سنگھ نے مجھے مشورہ دیا کہ میں ان کے نمائندے روِندر سنگھ سے بات کروں۔ روندر سنگھ نے گزشتہ برس لویا جرگہ میں اقلیتی نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔ روندر سے میری ملاقات کابل کی بستی کاتے پروان کے گردوارے میں ہوئی۔ گرودوارہ اندر سے خاصا خوبصورت ہے۔ ہال میں داخل ہوں تو بائیں جانب عورتوں اور دائیں مردوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ روندر نے بتایا کہ نجیب اللہ کے دور حکومت تک افغانستان میں سکھوں اور ہندوؤں کی کل آبادی دو لاکھ تھی۔ مگر اب پندرہ ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ جب سن اکانوے میں مجاہدین کا دور آیا اور اقتدار کی کھینچا تانی کا نتیجہ خانہ جنگی کی صورت میں ظاہر ہوا تو سکھ اور ہندو بھی اس سے متاثر ہوئے۔ اُدھر انیس سو بانوے میں بابری مسجد کا سانحہ پیش آگیا جس کے اثرات یہاں بھی پڑے اور افغان سکھ اور ہندو بڑی تعداد میں انڈیا اور یورپ نقلِ مکانی کر گئے۔ اندر عبادت کی مختلف رسوم ادا کی جا رہی تھیں۔ لوگ اندر آتے اور سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کے سامنے سجدہ کرتے اور پرنام کرکے ایک جانب بیٹھ جاتے۔ پکی عمر والے اور بوڑھے سکھ زیادہ انہماک کا مظاہرہ کر رہے تھے جبکہ بچے اور نوجوان اس فرض کی ادائیگی میں ذرا تیزی دکھا رہے تھے۔ گوردوارے میں آئی ہوئی منجیت کور نے بتایا کہ وہ جدی پشتی افغان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان عورتوں سے ان کی دوستی ہے۔ وہ ایک دوسرے کی شادی بیاہ اور موت میت میں شریک ہوتے ہیں۔ منجیت کا کہنا تھا: ’مسلمان بھی ہمارے بھائی ہیں۔ مسلمان بھی تو پرمیشور کی پیدائش ہیں۔‘
سکھوں کی مذہبی اور عام بول چال کی زبان پنجابی ہے۔ لیکن جب افغان سکھ اپنا وطن چھوڑ کر گئے تو ان کی شناخت یہ بات بنی کہ انہیں خالص پنجابی نہیں آتی۔ میں نے روندر سے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ افغان سکھ پنجابی بولتے ہیں لیکن پاکستان اور انڈیا میں بولی جانے والی پنجابی کی طرح خالص نہیں ہے۔ بلکہ جس طرح ہندی یا ارود پر انگریزی کا اثر ہے اسی طرح یہاں کی پنجابی میں فارسی کی آمیزش ہے۔ روندر نے بتایا کہ سکھ دھرم اور کلچر کی ترویج کے لیے گرودواروں کے ساتھ سکول بھی قائم ہیں۔ وہ مجھے گوردوارے کے پیچھے بنے ہوئے گورونانک دھرمک سکول میں لے گئے جہاں بچوں کو پشتو اور فارسی کے ساتھ گوربانی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اور سکھ بچوں کو بنیادی پنجابی سے روشناس کروایا جاتا ہے۔ اس سکول میں ساٹھ ستر بچے پڑھتے ہیں۔ روندر کا کہنا تھا کہ اب بہت سے سکھ اور ہندوں افغانستان واپس آ رہے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کو اپنے گھر اور دکانیں حاصل کرنے میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے مگر وہ اپنا حق لے کر رہیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||