افغان سردار کابل کے حوالے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ زیر حراست ایک افغان جنگجو سردار بادشاہ خان زدران کو افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ زدران کو دو ماہ قبل حکام نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے حراست میں لیا تھا۔ حکام اس فیصلے کی وجہ بتانے سے گریز کررہے تھے تاہم خیال ہے کہ زدران نے حراست میں بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی جس کی وجہ سے حکام نے انہیں بظاہر اب افغان حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ سرحد پار افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار سے اطلاعات ہیں کہ زدران کو صوبائی مرکز جلال آباد سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کابل منتقل کر دیا گیا ہے۔ بظاہر اس حراست اور منتقلی کا مقصد منحرف جنگجو سردار کو بات چیت کے لئے آمادہ کرنا ہے۔ زدران ایک وقت میں امریکی افواج کے ساتھ مل کر اور بعد میں ان کے خلاف بھی لڑے ہیں۔ انہیں بون معاہدے کے تحت مختصر عرصے کے لئے پکتیا صوبے کا گورنر بھی مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن مقامی افراد نے انہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دیا تھا۔ زدران سابق شاہ ظاہر شاہ کے حامی سمجھے جاتے ہیں اور وہ انہیں حکومت میں کوئی عہدہ دینے کے حامی ہیں۔ اس سمیت کئی مسائل پر ان کے کرزئی حکومت سے اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||