| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل ڈائری، چھبیس اور پچیس دسمبر
چھبیس دسمبر دو ہزار تین: کابل طورخم راستہ کابل طورخم شاہراہ بین القوامی شاہراہ ہے لیکن موجودہ حالت میں اسے سڑک بھی نہیں کہا جا سکتا۔ سڑک کے بھی کچھ لوازمات ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر آپ اسے سڑک قرار دے سکتے ہیں۔ اسے اگر کابل طورخم راستہ کہا جائے تو ذیادہ مناسب ہوگا۔ سڑک کے تو بس آثار ہی ہیں۔ کابل سے مشرقی شہر جلال آباد تک سفر سے تو اللہ سے امان مانگنی چاہئے۔ اگر آپ نے دمے، خون کے فشار اور ہڈیوں کا مریض نہیں بننا تو اس راستے سے اجتناب ہی بہتر۔ اس راستے پر دھول کا غبار، مسلسل کُڑھنا، بلبللانا اور جھٹکے کھانا ایسے ردعمل ہیں جن سے تین گھنٹے کے سفر کے دوران بچنا مشکل ہے، لہذا ان امراض میں مبتلا ہونا یقینی نظر آتا ہے۔
اس راستے پر چوری چکاری اور اس کے نتیجے میں قتل ایسے واقعات ہیں جو اس سفر کو انتہائی خطرناک بھی بنا دیتے ہیں۔ وہ مقام جہاں طالبان کے خلاف دو برس پہلے امریکی کاروائی کے دوران چار صحافیوں کو اغوا اور گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب بھی آتا ہے میرے ڈرائیوروں نے ہمیشہ میرے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی نشاندہی کی۔ میری کوشش ہوتی تھی کہ یہ تکلیف دہ مقام میرے نوٹ کئے بغیر گزر جائے۔ اس مقام کے علاوہ تمام راستے آپ کو بے شمار ٹرک، ٹرالر اور ٹینکر ہی نظر آئیں گے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو میں کتنی بڑی تعداد میں سامان پاکستان سے جا رہا ہے۔ ایک پاکستانی اہلکار کے بقول گذشتہ ایک برس میں پاکستان سے افغانستان کو برآمدات چھ سو ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ سب کچھ اسی راستے جا رہا ہے۔ ان ٹرک ڈرائیوروں کی مہارت اور صبر پر رشک آتا ہے کہ ایسے راستے پر روزانہ آتے جاتے رہتے ہیں۔ کابل جلال آباد راستے کی تعمیر کا وعدہ یورپی اتحاد نے کیا ہے اور اطلاعات کے مطابق رقم بھی مختص کی ہے لیکن معلوم نہیں کیوں اس پر کام میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ کچھ لوگ ایک وجہ ای یو کا خوف بتاتے ہیں کہ کہیں طالبان اس راستے کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان سے کابل تک نہ پہنچ جائیں۔ پھر پاکستان نے قدرے بہتر حالت میں طورخم جلال آباد شاہراہ کی تعمیر کا اعلان کیا ہوا ہے لیکن معلوم نہیں کیوں اس پر بھی کام دو برسوں میں صرف کاغذوں تک محدود ہے۔جب چار گھنٹوں کا یہ سفر(اچھی سڑک کی صورت میں) آٹھ گھنٹوں میں مکمل کیا تو حالت غیر تھی لیکن شکر اس بات کا ادا کیا کہ خیریت سے پہنچ تو گئے۔ دیگر افغانستان کی طرح جہاں تعمیر نو اور تحفظ اس وقت دو بڑی ضروریات ہیں، اس راستے کا بھی یہی تقاضہ ہے۔ پچیس دسمبر: سیکولر کابل کابل کو اگر افغانستان کا دل اور دماغ کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہو۔ اس تاریخی شہر کی اس ملک کی سیاست، معیشت اور معاشرتی اقدار پر اپنی ہی ایک چھاپ رہی ہے۔ موجودہ وقت میں بیس لاکھ آبادی کے اس شہر کی البتہ بہت سی باتیں اور عادتیں دیگر شہروں سے یکسر مختلف رہی ہیں۔ سن اسی کی دہائی کے اواخر تک یہ جگہ باقی ملک کے برعکس سیکولر تصور کی جاتی تھی۔ یہاں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد ملک بھر سے کہیں گنا ذیادہ تھی۔ مغربی سیاحوں کی بہتات تھی۔ مغربی لباس پہننا مرد و زن میں عام تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں آپ کو آج بھی بڑی بڑی مساجد کم ہی ملیں گی۔ مسجد پل خشتی ہی ایک قابلِ ذکر بڑی مسجد ہے۔
طالبان کے دور میں شہر کے مرکز میں مسجد عبدالرحمان کے نام سے سعودی پیسے سے ایک بڑی مسجد کی تعمیر شروع ہوئی مگر طالبان کے جانے کے بعد سے اس پر کام بند ہے۔ شہر کا یہی مزاج ہے جو شاید طالبان اسلامی تحریک کے سربراہ ملا محمد عمر کو اپنی جانب نہیں کھینچ سکا۔ وہ اپنے دور اقتدار کے دوران کبھی کابل نہ آئے اور جنوبی صوبے قندہار سے ہی اپنی حکومت چلاتے رہے۔ لیکن ان کا دور بھی اس شہر پر کافی بھاری گزرا۔ عجائب گھر لوٹے گئے، سینما گھر بند ہوئے اور عورتوں پر برقعے کی پابندی لگی۔ روسیوں کے خلاف مجاہدین کی طویل مزاحمت کے دوران بھی یہ شہر عمومی طور پر جنگ کے بھیانک اثرات سے محفوظ رہا۔ طالبان کا دورِ حکومت ہی اس شہر کے لئے انتہائی سخت نہیں تھا۔ اصل تباہی تو اس سے قبل مجاہدین کے وقت اس شہر نے دیکھی۔ نوے کی دہائی کے آغاز میں مجاہدین حکومت میں آئے اور آپس میں ایک دوسرے کے دست و گریبان ہوئے۔ شہر مختلف جنگجو سرداروں کے قبضہ میں بٹ گیا اور ایک دوسرے پر راکٹ برسانے کا عمل شروع ہوا۔ کابلی آج بھی اس وقت کو یاد کر کے رنجیدہ ہوجاتے ہیں۔ اب بین القوامی امداد سے اس شہر کے باسیوں اور سرمایہ کاروں کا اس پر اعتماد قدرے بڑھا ہے۔ اب بھی اس شہر کے ایک کونے میں جنگ جاری ہے لیکن خوش قسمتی سے یہ لڑائی الفاظ تک محدود ہے اور پانچ سو سے زائد مندوب ملک کا نیا آئین تیار کر رہے ہیں۔ سب بشمول مجاہدین اور جنگجو سردار پرامن طریقے سے ایک جگہ بیٹھے اختلافات دور کر رہے ہیں۔ تمام افغانوں کی دعا ہے کہ یہ طریقہ ان کے رہنما کہلانے والوں کی سمجھ میں آجائے تاکہ کابل کابل رہے، آباد رہے اور کھنڈرات میں تبدیل نہ ہونے پائے۔ آمین نوٹ: ہارون رشید افغانستان کے دارالحکومت کابل سے پاکستان واپس آ گئے ہیں اس لئے کابل ڈائری کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||