BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 December, 2003, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل ڈائری، چوبیس اور تئیس دسمبر

صحافی ہارون رشید
صحافی ہارون رشید

چوبیس دسمبر، دو ہزار تین: کرسمس اور کرزئی

صبح جلدی اٹھنا ایک صحافی کے لیے ہمیشہ مشکل ترین کاموں میں سے ایک رہا ہے۔ مجھے بھی یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی ہفتہ وار معمول کی صحافیوں سے ملاقات تھی جس میں وہ ملکی حالات پر بیان دیتے ہیں۔ ہم نے بھی تین چار افغان اہلکاروں کو جانے کے لئے اپنا نام دے دیا۔ حکم ہوا کہ کل صبح سات بجے صدرارتی محل پہنچ جائیں۔ سو مرتے کیا نہ کرتے صبح چھ بجے کا الارم لگا کر سو گئے۔ ایک اور یخ بستہ صبح کو اٹھے اور روانہ ہوئے۔ سردی کا وہ عالم کہ کچھ نہ پوچھیں۔ اگر پہلے سے معلوم ہوتا کہ صدر صاحب کی صرف پانچ منٹ کی ملاقات کے لئے دو گھنٹے کی سیکورٹی ڈرل سے گزرنا پڑے گا تو شاید نہ جاتے۔ صدر کی حفاظت کتنی سخت ہے اس کا اندازہ آج ایک مرتبہ پھر ہوا۔



قصرِ گل کی حفاظت

کرزئی بلآخر امریکی اور افغان کمانڈوز کی معیت میں نمودار ہوتے ہیں۔ دو منٹ خود بولتے ہیں اور بعد میں سوالات کا تقاضہ کرتے ہیں اور ان کے محافظ آگے پیچھے اور محل کی چھت سے ایک ایک صحافی کو گھورتے رہتے ہیں۔

حفاظتی انتظامات کی بظاہر انتہا کابل کے مرکز میں واقعہ قصرِ گل خانہ کے علاقے میں جہاں صدر رہائش پزیر ہیں اور جہاں ان کے دفاتر بھی ہیں، دیکھنے کو ملتے ہیں۔ محل کے اردگرد کے ایک بڑے علاقے میں عام شہریوں کا داخلہ یا گزرنا ممنوع ہے۔ اندر جانے کے لئے کئی چوکیاں ہیں اور جس سمت سے بھی آپ اندر جائیں آپ کو کم از کم تین چار مختلف قسم کی تلاشیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ امریکی فوج اور بغیر دم کے کتے تلاشی لینے والوں میں شامل ہوتے ہیں۔ تفصیلی تلاشی البتہ افغانیوں سے ہی لی جاتی ہے۔ آخری چیک اپ کے بعد افغانی محافظ آپ کو گھیرے میں محل کے اندر لے جاتے ہیں۔ وہاں آپ کی کرزئی کے طویل انتظار اور چائے سے تواضع کی جاتی ہے۔ کرزئی بلآخر امریکی اور افغان کمانڈوز کی معیت میں نمودار ہوتے ہیں۔ دو منٹ خود بولتے ہیں اور بعد میں سوالات کا تقاضہ کرتے ہیں اور ان کے محافظ آگے پیچھے اور محل کی چھت سے ایک ایک صحافی کو گھورتے رہتے ہیں۔ کرزئی صاحب بھی روایتی سبز چغے میں ملبوس کافی تروتازہ لگ رہے تھے۔ تین ہفتے قبل بھی صدارتی محل آیا تو یہی امریکی اس وقت بھی افغانستان کی اہم ترین شخصیت کی حفاظت پر معمور تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انہیں کرسمس سے ذیادہ صدر کرزئی کی فکر تھی۔

تئیس دسمبر: ایک مترجم۔۔۔

دو روز سے مسلسل کابل کے موسم کی بات کر رہا ہوں تو آج فیصلہ کیا کہ اس کا بالکل ذکر نہیں کروں گا۔ لیکن اتنا کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہاں کی سردی نے اپنا جوبن سوموار کی شام موسم سرما کی پہلی برفباری کی شکل میں دکھایا۔ شہر نے جیسے سفید چارد سی اوڑھ لی ہے۔

دنیا میں دلچسپ لوگوں کی کمی نہیں اور بی بی سی کابل دفتر میں بھی ایسا ہی ایک افغان نوجوان ہے۔ نام ہے اس کا بلال سروری اور کام ہے اس کا بی بی سی کے غیرملکی نمائندوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں بحیثیت مترجم اور منتظم امداد کرنا۔ وہ گذشتہ دو برسوں سے اس دفتر میں اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ایک لازمی جز سا بن گیا ہے۔ چلتا پھرتا پرزہ ہے اور بولتا بہت ہے۔ پشتو، دری جیسی افغان زبانوں کے علاوہ انگریزی اور اردو اُس کے اضافی ہتھیار ہیں۔ انگریزی تو فر فر لیکن اردو دھکے دے دے کر انگریزی کے تڑکے کے ساتھ بول لیتا ہے۔

کابل نے سفید چادر اوڑھ لی ہے
کابل نے سفید چادر اوڑھ لی ہے

افغانستان کی ہر معروف سیاسی شخصیت کے بارے میں اس کے پاس ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ عقل ماننے کو تیار نہیں ہوتی۔ ان میں اکثر مذاح کا بھرپور شاہکار ہیں۔ اس کی قربت میں بوریت دور بھاگتی ہے۔ کافی مصروف زندگی گزار رہا ہے۔ سونا بچھونا دفتر ہی ہے۔ کابل میں اکیلا ہے اور خاندان کے دیگر افراد پشاور میں مقیم ہیں۔ اس کے بھائی وہاں ملازمتیں کرتے ہیں، لہذا اپنے وطن لوٹنے کا ان کا کوئی مستقبل قریب میں ارادہ نہیں ہے۔ بلال البتہ کابل میں کافی خوش ہے۔ اس کی وجہ اسے یہاں ملنے والے ماحول اور تنخواہ ہے۔ ہر ماہ اتنے کما لیتا ہے کہ جتنے میں پاکستان میں بھی نہیں کما سکتا۔ بلال میں بھی بہت کچھ ایک وقت میں کر گزرنے کی خواہش بلکہ اگر خارش کہوں تو غلط نہیں ہوگا۔ تھوڑی لالچ بھی ہے۔

اس کی اپنی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ دو برس پہلے افغانستان پر امریکی حملے کے وقت پشاور میں تھا اور یہ کام شروع کیا، تورا بورا میں غیرملکی صحافیوں کے ساتھ کام کیا اور تین ہزار ڈالر چند روز میں کمائے۔ ’مجھے سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ ان کا کیا کروں۔ اتنی رقم میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی۔ خوف بھی تھا کہ کہیں کوئی یہ سبز کرنسی کی خاطر مار ہی نہ دے۔ تمام ڈالر مختلف جرابوں اور جیبوں میں تقسیم کر دیے۔ رات نیند نہ آئے۔ یہ رقم ایک دوست کے پاس رکھوائی تو وہ منکر ہوگیا۔ پولیس کی مدد سے رقم واپس ملی۔‘

افغانستان میں اگرچہ عالمی ذرائع ابلاغ کی دلچسپی حالات کے ساتھ ساتھ بڑھتی کم ہوتی رہتی ہے لیکن ایک بڑی تعداد میں افغان نوجوانوں کو یہاں مترجم اور منتظم کے علاوہ بطور صحافی بھی مواقع ملے ہیں۔ کابل میں تقریبا تمام بڑی خبر رساں ایجنسیوں اور ٹی وی ریڈیو کے دفاتر ہیں۔ اس کے علاوہ کئی غیرملکی اخبارات کے نامہ نگاروں کا آنا جانا بھی لگا رہتا ہے۔ انہیں بلال جیسے نوجوان افغانوں کے ضرورت پڑتی رہتی ہے اور رہے گی، جب تک افغانستان خبروں کے عالمی افق سے غائب نہیں ہوجاتا۔



نوٹ: ہارون رشید افغانستان کے دارالحکومت کابل سے پاکستان واپس آ گئے ہیں اس لئے کابل ڈائری کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد