BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 December, 2003, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل ڈائری، بائیس اور اکیس دسمبر

صحافی ہارون رشید
صحافی ہارون رشید

بائیس دسمبر: بخاری صاحب ۔۔۔

موجودہ حالات میں کابل میں رہنے کے لئے بخاری صاحب کتنے ضروری ہیں، اس کا اندازہ آج ہوا۔ یہاں میری مراد نامساعد حالات سے چور، ڈاکو یا یہاں کی ’پنجشیری‘ پولیس نہیں بلکہ انتہائی سرد موسم ہے۔ کل بھی اس کا رونا رویا اور آج بھی اس لئے کہ چونکہ بخاری صاحب کی برکت بالآخر تین روز بعد غسل کا موقع ملا۔ بخاری بھی کوئی اہم افغان شخصیت نہیں لیکن کابل کے ہر کمرے کے ایک کونے میں پڑا وہ ٹین کا حمام ہے جس میں لکڑی جلا کر حدت کے ذریعے موسم کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بغیر گزارہ ناممکن نظر آتا ہے۔



اس میں جلتی لکڑی پر دل میں یہاں کے جنگلات کے لئے درد بھی پیدا ہوا لیکن انسان بنیادی طور پر مطلب پرست ہے، سو ماحول سے زیادہ اس وقت اہمیت غسل کی تھی۔ دل دکھانے کو ابھی بھی اس شہر میں بہت کچھ ہے۔ جہاں ٹھہرا ہوں وہاں ملازمت کرنے والے ایک شخص کو دیکھا تو اپنے آپ کو بڑا نازک اندام پایا۔ وہ ایک پتلی سی قمیض شلوار اور کوٹ میں کابل کی سردی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ نہ گرم گرم جراب اور نہ کوئی سویٹر۔ پوچھا کہ سردی نہیں محسوس ہوتی تو جواب دیا کہ اتنی تو نہیں۔ پوچھا باہر سڑکوں گلیوں میں رکا ہوا پانی برف بنا ہوا ہے اور آپ کہتے ہیں سردی نہیں، تو اس نے دو لفظوں کا مختصر مگر اصل جواب دیا۔ ’پیسے نہیں۔‘

کابل میں مغربی حکومتوں کی بات اگر تسلیم کریں تو حالات بہت بہتر ہوچکے ہیں، لیکن ایک عام، غریب، بے اختیار اور بے بس افغان آدمی کے لئے شاید کوئی فرق نہیں آیا۔ غربت اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ یہاں کی سڑکوں اور گلیوں میں دیکھنے کو ملے گی۔ شہر کے مرکز میں نئی بجلی کی مصنوعات کی دکان کے باہر چھوٹے مزدور بچے ٹیلی وِژن کی بڑی اسکرین پر کارٹون دیکھنے رکے دیکھے۔ حالانکہ ان کی ننھی سی کمروں پر جہاں اسکول کے بستے ہونے چاہئے تھے سیمنٹ کی بوریاں تھیں۔ تھوڑا آگے چلیں تو گلیوں اور بچوں کے علاوہ بڑی عورتیں بھی بھیک مانگتی نظر آئیں گی۔ کابل رنگ میں آرہا ہے لیکن صرف ان کے لئے جن کے پاس پیسے ہیں۔ ان چند مکانات کی تعمیر ہو رہی ہے جن کے مالکان کے پاس پیسے یعنی ڈالر ہیں۔ اکثر گھروں کی کھڑکیوں میں شیشے کی جگہ پلاسٹک کی شیٹ سے سرد ہواؤں کو دور رکھا جا رہا ہے۔ دیگر متنازعہ مسائل کی طرح جن کی یہاں بظاہر کوئی کمی نہیں، کابل میں کتنی بہتری آئی ہے اس پر بحث گھنٹوں بلکہ دنوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس وقت اتنا ہی کافی ہے۔

اکیس دسمبر: اس حمام میں۔۔۔

کابل کی خشک سردی کے بارے میں سنا تھا محسوس پہلی مرتبہ کر رہا ہوں۔ اس وجہ سے آج بغیر نہائے گزارنا پڑا۔ شہر کے گردو نواح میں پہاڑ برف کی سفید چادر پہنے ہیں جنہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ غالباً یہ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کابل میں بسنے والے انسان کتنی سردی برداشت کر سکتے ہیں۔

ان پہاڑوں سے آئی یخ بستہ ہوائیں موسم کو انتہائی سرد تو بنا رہی ہیں لیکن سردی کا مسئلہ اس وقت زیادہ پیچیدہ ہوجاتا ہے جب آپ کے پاس اس کے مقابلے کا مناسب اہتمام نہ ہو۔

تئیس برس کی جنگی حالت سے شہر میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے جبکہ پاکستان میں دستیاب قدرتی گیس کی نعمت یہاں ندارد ہے۔

پہلے آئیے پہلے پائیے کے تحت۔۔۔

 پہلے آئیے پہلے پایئے کی بنیاد پر جس نے پھرتی دکھائی، مختصر بجلی سے چلنے والےگیزر کا پانی اسی کا ہوا۔

ہارون رشید

ہفتے کے روز پشاور سے کابل تک چھ گھنٹے کے تکلیف دہ سفر میں کچی پکی سڑکوں پر اس قدر دھول کھائی کہ اگر اس دن نہیں تو دوسرے روز نہانا فرض ہوچکا تھا۔

کابل میں ایک مہربان نے ہوٹل جانے نہیں دیا اور اپنے گھر میں ٹھہرانے کا بندوبست کیا۔ ان کا مکان شہر میں ماضی کے امیر ترین علاقے وزیر اکبر خان میں ہے۔ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے اب اس کی حالت کافی خراب ہو چکی ہے۔

پھر مکانات کی تعمیر ایسی ہے کہ ایک چھت پر چار بیڈ رومز کے لئے ایک مشترکہ غسل خانہ بنایا گیا ہے۔ پہلے آئیے پہلے پایئے کی بنیاد پر جس نے پھرتی دکھائی، مختصر بجلی سے چلنے والےگیزر کا پانی اسی کا ہوا۔ ہم جیسے سست لوگ ہاتھ ملتے رہ گئے۔

اب امید ہے کہ کل غسل جو کہ اب غسل عظیم بن چکا ہے کرنے کا موقعہ ملے گا۔ یہ بھی کابل میں بسنے کی مشکلات میں سے ایک ہے۔



نوٹ: ہارون رشید افغانستان کے دارالحکومت کابل سے پاکستان واپس آ گئے ہیں اس لئے کابل ڈائری کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد