رمزفیلڈ مشرف ملاقات: القاعدہ زیرِ بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک ملاقات کی ہے جس میں پاکستانی صدر نے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کے متعلق امریکی وزیرِ دفاع کو آگاہ کیا۔ ملاقات میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کے علاوہ افغانستان اور عراق کی تازہ صورتِ حال، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ، پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی اور دیگر اہم عالمی اور علاقائی موضوعات زیرِ بحث آئے۔ صدرِ پاکستان نے امریکی وزیرِ دفاع کو پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور امریکہ پاکستان کے ساتھ حکمتِ عملی کے حوالے سے اپنے تعلقات مزید مستحکم کرے گا۔ اس ملاقات میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ کے علاوہ پاکستان میں امریکی سفیر بھی موجود تھے۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس لکھتے ہیں کہ امریکی حکام پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارکردگی سے بہت مطمئن نظر آتے ہیں۔ پاکستان سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں عرب، ازبک اور دوسرے غیرملکی اور مقامی شدت پسندوں کے خلاف کافی کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق واشنگٹن کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ گزشتہ برس کے اوائل میں شروع کی جانے والی کارروائی کے دوران کئی پاکستانی فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ تاہم پاکستان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے تازہ حملوں کے بعد امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان پورے سرحدی علاقے میں سکیورٹی آپریشن شروع کر دے۔ تجزیہ نگار صدر جنرل پرویز مشرف کی دِلّی روانگی سے چند روز قبل امریکی وزیر دفاع کے دورے کو خاصی اہمیت دے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق امریکی وزیر دفاع اسلام آباد کے بعد امکان ہے کہ دِلّی بھی جائیں گے جہاں وہ بھارتی قیادت سے بھی ملیں گے۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت کے اعلان کے بعد کسی اعلیٰ سطحی امریکی نمائندے کا یہ پہلا دورہ ہے۔ امریکی وزیر کے دورے کے موقع پر پاکستان کے جنوب میں واقع سب سے بڑے شہر کراچی میں امریکی قونصلیٹ دو دنوں سے ’سیکورٹی، کی وجہ سے بند ہے اور تاحال یہ واضح نہیں کہ متعلقہ دفتر کب دوبارہ کھولا جائے گا۔ واضح رہے کہ جون سن دوہزار دو میں کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر کار بم سے حملہ کیا گیا تھا جس میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک شدگان میں کوئی امریکی باشندہ شامل نہیں تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||