BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 November, 2004, 16:32 GMT 21:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسامہ ٹیپ کی سی ڈی وانا میں بنی تھی‘

پاکستانی وزیر اطلاعات
کہا جاتا ہے کہ اسامہ کی اس ٹیپ نے بھی امریکی انتخابات کے نتائج پر اثر ڈالا
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا کہ حال ہی میں الجزیرہ سے نشر ہونے والی اسامہ بن لادن کی ٹیپ اسلام آباد سے بھیجی گئی تھی اور اس کی سی ڈی وانا میں بنی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وانا کے آپریشن کے دوران ایک پوراٹرک الیکٹرانک کے ایسے سامان سے لدا ہوا پکڑا گیا ہے جو سی ڈیز وغیرہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

شیخ رشید نے بتایا کہ ’ کہا جاتاہے کہ اسامہ یا القاعدہ کے پیغام ہمارے چینل سے جاتے ہیں اسی لیے یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ اسامہ پاکستان یا اس کے آس پاس موجود ہوسکتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ابوزبیدہ ابو طلحہ اور شیخ خالد جسے القاعدہ کے رہنما پکڑے گئے اس لیے یہ شبہ اور بھی تقویت پکڑتا ہے ۔

پاکستانی وزیر اطلاعات نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر کے انتخاب کے بعد آنے والے دور میں کشمیر اور فلسطین کے مسائل حل ہوں گے اور عراق میں ایک عوامی حکومت قائم ہوگی۔ انہوں نےکہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے جو پاکستان کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نےلاہور میں ایک افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا جس کا اہتمام وفاقی وزارت اطلاعات نے کیا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ ’بش کے (پہلے) دور میں امت مسلمہ کا دل ٹوٹا تھا لیکن انہوں نے کہا کہ اب ہماری کوشش ہے کہ وہ عالم اسلام کو ساتھ لے کر چلیں اور اس کی غلط فہمیاں دور کریں‘۔

انہوں نے کہاکہ صدر جنرل پرویز مشرف کی نئی تجاویز کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستان کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کرانے کے مطالبے سے دستبردار ہوگیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صدر مشرف ناممکنات میں پڑنے کی بجائےمعاملہ فہمی اور خوش اسلوبی سے تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور خود اقوام متحدہ کی ان قراردادوں میں یہ بات شامل ہے کہ دونوں ممالک کی افواج علاقہ خالی کر دیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری خواہش ہے کہ کشمیر سری نگر بس سروس کے آغاز ہونے کے بعد پہلی بس میں حریت کانفرنس کے رہنما آئیں‘۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ حریت کانفرس کے کس دھڑے کی بات کر رہے ہیں ؟تو انہوں نے کہا کہ حریت کے سب دھڑوں سے بات کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنے کو تیار نہیں ہیں اور بھارت کے ساتھ اسی بارے میں بات چیت جاری ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد