اسامہ وڈیو: ایک سیاسی دستی بم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسامہ بِن لادن کی طرف سے جاری ہونے والی دو سال میں پہلی وڈیو میں امریکیوں کے لیے پیغام ہے۔ اس وڈیو کو امریکی انتخابات سے چار روز پہلے یقیناً سوچ سمجھ کر نشر کیا گیا ہوگا۔ اس وڈیو کا پہلا پیغام یہ ہے کہ اسامہ بِن لادن زندہ ہیں، آزاد ہیں اور بظاہر صحت مند ہیں۔ وہ صاف ستھرے اور اچھے لباس میں نظر آرہے تھے۔ ان کے حلیے سے نہیں معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایسے انسان ہیں جو چھپتے پھر رہے ہوں۔ ٹیپ کی تیاری اور پھر اس کا الجزیرہ تک پہنچنا کسی حد تک ثابت کرتا ہے کہ اسامہ بِن لادن کے پاس اب بھی تنظیمی ڈھانچہ ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ زندہ ہیں، ان کی عالمی حیثیت ہے اور وہ ایک بڑا خطرہ ہیں۔ امریکی ووٹروں کے لیے انتخابی مہم کے اختتامی مراحل میں نشر ہونے والی یہ ٹیپ ایک سیاسی دستی بم ہے۔ یہ وڈیو یہ بھی ثابت کر سکتی ہے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ ناکام ہو گئی۔ اس طرح یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جان کیری کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ اس کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے صدر بُش کی اس بات کے حق میں دلیل بھی سمجھ سکتے ہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔ اب اہم بات یہ ہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں کا اس ٹیپ پر کیا رد عمل ہوتا ہے۔ وہ اس کو کیسے دیکھتی ہیں اور ووٹروں کے سامنے کیسے پیش کرتی ہیں۔ ربپلکن پارٹی کے لیے شاید یہ کام آسان ہو۔ اسامہ بِن لادن نے جو کچھ کہا اس سے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کا کام مشکل ہے۔ وڈیو میں اسامہ بن لادن نے بُش پر وہی الزامات لگائے ہیں جو ڈیموکریٹک پارٹی والے صدر بُش پر عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹ بولا وغیرہ۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جان کیری کی طرف سے بہترین موقف یہ ہو سکتا ہے کہ عراق کے خلاف جنگ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے کی گئی اور یہ کہ تین سال گزرنے کے باوجود اسامہ بِن لادن دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ امریکی افواج عراق میں موجود ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ امریکن ووٹر سلامتی کے معاملے میں جارج بُش پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔ انتخابی مہم پر اس وڈیو کے اثرات تو ایک دو روز میں واضح ہوں گے، لیکن یہ قیاس کرنا غلط ہوگا کہ یہ وڈیو صدر بُش کے لیے مشکلات پیدا کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||