اسامہ: ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسامہ بن لادن کا کیا ہوا ؟ کیا وہ ہلاک ہو چکے ہیں ؟ فرار ہیں ؟یا پھر امریکہ پر نئے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو گزشتہ تین سالوں سے مسلسل کئے جارہے ہیں لیکن اب یہ سوال خاص معنی اختیار کر گئے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کی پچھلی دو برسیوں کے موقع پر بن لادن ایک طرح سے نمودار ہوئے تھے۔ 2003 میں ان کی ایک ویڈیو فلم دکھائی گئی جس میں انہیں پہاڑوں میں چلتے ہوئے دکھایا گیا لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ یہ فلم کب بنائی گئی تھی۔ 2002 میں ان کی آواز سنی گئی ایک ویڈیو ٹیپ میں وہ نیو یارک اور واشنگٹن میں حملے کرنے والوں کی ستائش کر رہے تھے۔ لیکن اس سال ستمبر میں ابھی تک اسامہ کا کوئی پیغام نہیں آیا۔ بن لادن کی جانب سے خیال کیا جانے والا آخری بیان ایک آڈیو پیغام تھا جو 15 اپریل کو آیا تھا۔ اس پیغام میں انہوں نے یورپ تین ماہ کا وقت دیا تھا کہ وہ مسلمانوں پر حملےکرنے اور ان کے معاملات میں دخل دینے کی پالیسی ترک کر دے۔ اس مہلت کے ختم ہونے کے بعد سے یورپ میں کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا ہے۔
اس ستمبر میں ایک ویڈیو ضرور آئی تھی لیکن وہ القاعدہ کے نائب رہنما ایمن الزواہری کی جانب سے تھی جس کا مقصد جہاد کرنے والوں کے حوصلے بڑھانا تھا۔ تاہم اسامہ کے سامنے نہ آنے سے اب بھی کچھ اہم سوال اٹھتے ہیں مثلا القاعدہ اور دنیا بھر میں جہادی سرگرمیوں میں دراصل ان کا کردار کیا ہے امریکہ کہتا ہے کہ القاعدہ قیادت کی اکثریت یا تو گرفتار ہو چکی ہے یا پھر ماری جا چکی ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بن لادن کی جہاد کی پالیسی دنیا میں کسی وباء کی طرح پھیل گئی ہے ۔ اس سال میڈرڈ اور جکارتا میں ہونے والے حملے یقیناً القاعدہ کے اشارے پر نہیں ہوئے لیکن ان لوگوں یا گروپوں نے کئے ہیں جو بن لادن کے نظریات یا ایجنڈے کے حامی ہیں۔ اس کی بہترین مثال عراق میں ابو مصعب الزرقاوی ہے جو باقاعدہ طور پر کبھی بھی القاعدہ کا حصہ نہیں رہے لیکن انہوں نے اپنا خود کا ایسا ہی نیٹورک بنایا ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بن لادن کے نہ ہونے سے مجموعی طور پر تشدد میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ایشیا بحرالکاہل فاؤنڈیشن کے ایم جے گوہل کا کہنا ہے کہ درحقیقت بن لادن کا نظریہ دنیا بھر میں لوگوں اور تنطیموں میں پھیل گیاہے۔ بن لادن کو انٹرویو کرنے والے کچھ مغربی صحافیوں میں سے ایک پیٹر برجن کا کہنا کہ کہ اسامہ اور الزواہری اپنی تحریک کو متاثر کرتے رہتے ہیں ۔
مثال کے طور پر بن لادن نے عراق میں اتحادی افواج پر حملوں کی اپیل کی تھی اور اس کے بعد سے جنوبی عراق میں اطالوی پولیس پر حملے ہوئے ، ترکی میں برطانوی بینک اور قونصل خانے پر حملے ہوئے اور میڈرڈ میں بھی حملہ ہوا۔ بن لادن کو زندہ یا مردہ پکڑناامریکہ کا اہم مقصد ہے اور اس سے بلا شبہ امریکی افواج کے حوصلے بلند ہوں گے اور اس جدوجہد کا رخ بھی بدلے گا لیکن یہ ختم نہیں ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||