| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے انوکھے طریقے
اقوام متحدہ کے سفیر ہیرالڈو منیوز نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروپوں نے دنیا کے مختلف ملکوں میں سرمائے کی منتقلی کے لیے نت نئے اور انوکھے طریقے اپنانا شروع کر دئیے ہیں۔ ہیرالڈو منیوز نے افغانستان، متحدہ عرب امارات ، انڈونیشیا اور سنگاپور کےدورے کے بعد کہا کہ اسامابن لادن نے اقوام متحدہ کی طرف سے بینکوں کے ذریعے سرمایہ منتقل کرنے پر پابندیوں کے بعد ان سے نمٹنے کے مختلف طریقے نکال لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ تنظیم پیسے منتقل کرنے کے لیے اب غیر روائیتی طریقے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ اپنے سرمائے کو سونے اور قیمتی پتھروں میں بدل رہی ہے۔ ہیرالڈو منیوز کا تعلق چلیّ سے ہے اور وہ اقوام متحدہ کی تادیدیبی پابندیوں کی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں افغانستان، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور سنگاپور کا تجزیاتی دورہ کیا تھا۔ دورے کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے کارکنوں نے بینکوں کے ذریعے سرمایہ منتقل کرنا بند کر دیا ہے اور فرضی کمپنیوں کو بھی استعمال نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا یا تو وہ حوالہ کا طریقہ استعمال کر رہے ہیں یا وہ کورئیرز کے ذریعے سرمایہ منتقل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا القاعدہ کا خطرہ ابھی برقرار ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان اور القاعدہ افغانستان میں منشیات کے اسمگلروں سے پیسہ وصول کرتے ہیں اور اس پیسے سے ہتھیار خریدتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اور القاعدہ اب مقامی طور پر اپنی کارروائی منظم کرتے ہیں اور کسی ایک مرکز سے انھیں منظم نہیں کیا جاتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||