BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 October, 2004, 21:32 GMT 02:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسامہ کے ٹیپ کے بعد الزامات
اگلا صدر کون بنے گا؟
اٹلی کے شہر روم میں جان کیری کی حمایت کرنے والی ایک بچی
اسامہ بن لادن کی نئی ٹیپ کی آمد کے بعد صدر بش اور ان کے حریف جان کیری نے ایک دوسرے پر دہشت گردی کے خلاف شروع کی جانے والی امریکی مہم کے حوالے سے نئے الزامات لگائے ہیں۔

صدر بش نے اپنے حریف پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے کمزوری اور بے عملی کا راستہ چنا ہے۔

صدر بش نے ٹیپ کی آمد کے بعد ویڈیو کانفرنس کی جس میں ان کے سرکردہ معاونین نے شرکت کی۔ اس کے بعد صدر بش نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’انتخابات کا جو بھی نتیجہ ہو گا وہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے رخ کا تعین کرے گا‘۔

اس کے برخلاف سینیٹر جان کیری نے وسکونسن میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صدر بش سے زیادہ بہتر قیادت فراہم کریں گے۔

امریکہ میں دو نومبر کی ووٹنگ کے لئے صدر جارج بش اور ان کے ڈیموکریٹک چیلنجر سینیٹر جان کیری کی انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

صدارتی عہدے کے دونوں امیدوار ان فیصلہ کن ریاستوں میں اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جہاں ووٹروں کی ایک تعداد نے اب تک فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ کس کو ووٹ دیں گے۔

دریں اثناء ووٹنگ سے تین دن قبل ہی انتخابی مہم نے اس وقت ایک نیا رخ لے لیا جب عربی ٹیلی ویژن الجزیرہ نے جمعہ کے روز اسامہ بن لادن کا ایک نیا وڈیو ٹیپ نشر کیا۔

صدر جارج بش اور سینیٹرجان کیری جمعہ کو فلوریڈا، اوہائیو اور نیو ہمپشائر میں اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئےتھے۔ سنیچر کےروز دونوں امیدوار چھ اہم ریاستوں میں سات سات ریلیوں میں حصہ لیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد