BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 October, 2004, 23:34 GMT 04:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلوریڈا: انتخابی تنازعوں کا مرکز

فلوریڈا ووٹر
فلوریڈا کے نوجوان لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سن دو ہزار کے امریکی انتخابات کا فیصلہ جنوبی ریاست فلوریڈا میں ہوا تھا جہاں ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر بش کے بھائی جیب بش کی ریاستی انتظامیہ پر دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک بار پھر فلوریڈا کی ریاست امریکی انتخابی معرکے کا شاید اہم ترین میدان ثابت ہو۔
سن دو ہزار کے صدارتی انتخابات لگتا ہے فلوریڈا میں اب بھی جاری ہیں جس کا حتمی مرحلہ دو نومبر کو ہونا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی صدر بش کے بھائی اور ریاستی گورنر جیب بش پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے فلوریڈا کے ہزارہا ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جس کی وجہ سے جارج بش صدر بن سکے۔

اختیارات کے غلط استعمال کے اس الزام میں چاہے حقیقت ہو یا نہیں، اس سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ محروم ہوجانے والے ووٹروں کی بھاری اکثریت ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کی تھی۔ نتیجتاً ریاست میں اس بار ووٹروں میں زبردست جوش خروش پایا جاتا ہے۔

کوڈ پنک امریکی خواتین کا ایک غیرجانبدار ادارہ ہے جو متوسط اور نچلے طبقے کے ووٹروں کا شعور بیدار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ کوڈ پنک کی ترجمان سنڈی شیہان نے کہا کہ ہم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کررہے ہیں اور خواتین ان کا خاص محور ہیں۔

کوڈپنک کی کوشش ہے کہ غریب اور نچلے طبقے کے ایسے ووٹروں کو جن کے پاس پولنگ اسٹیشنوں تک جانے کا کوئی انتظام نہیں، ٹرانسپورٹ مہیا کی جائے۔ کوڈپنگ کی ترجمان کے مطابق اس بار نوجوان خاص طور پر یونیورسٹی کے طالب علم بڑی تعداد میں ووٹ ڈال رہے ہیں

اس بار کے صدارتی انتخاب میں بھی ڈیموکریٹک توپوں کا رخ ایک بار پھر جیب بش کی جانب ہے۔ فلوریڈا میں انتخابی بےقاعدگیوں کے الزامات کو ہوا ریاست کی صرف ایک کاؤنٹی میں ساٹھ ہزار کے لگ بھگ پوسٹل بیلٹ پیپروں کے لاپتہ ہوجانے کی اطلاعات سے بھی ملتی ہے جس کی ریاستی حکام تردید کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹ حلقے اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔

فلوریڈا میں انتخابی بےقاعدگیوں کے تنازعے کا ایک محور اسکرین چھوکر ووٹ ڈالنے والی مشینیں ہیں جن میں ووٹوں کی دوبارہ انفرادی گنتی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ تو اگر پچھلے انتخابات کی مانند اس بار بھی دوبارہ ضرورت پڑی تو کیا ہوگا۔

فلوریڈا میں ایک اور غیرجانبدار ادارے الیکٹورل ریفارم انفارمیشن پروجیکٹ کے سربراہ ڈین سیلگسن کہتے ہیں کہ اس بار پچھلے سال والے تنازعات نہیں ہوں گے لیکن نئے تنازعات ضرور سامنے آئیں گے۔

اس سارے قضیے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ وکیلوں کی بن آئی ہے اور دونوں ہی جماعتوں نے پورے امریکہ میں ہر ریاست میں سینکڑوں وکیلوں کی خدمات حاصل کرلی ہیں تاکہ بوقت ضرورت قانونی چارہ جوئی میں تاخیر نہ ہو۔

اب جبکہ صدارتی انتخابات میں چار دن سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، دونوں جماعتیں صرف فلوریڈا ہی نہیں باقی پورے ملک میں بھی اہم ریاستوں میں اپنے کارکنوں اور رضاکاروں کو متحرک کررہی ہیں اور یوں لگتا ہے کہ ماضی کے زیادہ تر انتخابات کے برعکس اس بار صدارتی انتخابات دو نومبر کے بعد بھی جاری رہیں گے چاہے عدالتوں میں کیوں نہ جاری رہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد