BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 October, 2004, 23:09 GMT 04:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسامہ کی دھمکی پر امریکی رد عمل
 اسامہ بن لادن
افغانستان پر امریکی حملے کے بعد یہ اسامہ کی پہلی وڈیو ہے۔ اس دوران ان کی آڈیو ریکارڈنگ نشر ہوتی رہی ہیں۔
امریکی صدر جارج بش اور ان کے ڈیموکریٹ مخالف جان کیری نے اسامہ بن لادن کے وڈیو ٹیپ میں دی گئی دھمکی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں گرفتار یا ہلاک کرنے کا عزم کیا ہے۔

یہ وڈیو عربی ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ سے نشر کی گئی ہے جس میں اسامہ بن لادن نے امریکہ پر نئے حملوں کی دھمکی دی ہے۔

امریکی صدر جارج بُش نے کہا کہ وہ ’امریکہ کے دشمن سے مرعوب ہوں گے نہ اس کے اثر میں آئیں گے‘۔

صدارتی انتخابات میں ان کے مخالف امیدوار جان کیری نے کہا کہ منتخب ہو کر وہ اسامہ بن لادن کو تلاش کر کے تباہ کر دیں گے۔

القاعدہ کے رہنما نے وڈیو میں کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کی وجہ بننے والے حالات اب بھی موجود ہیں۔

اس وڈیو میں اسامہ بن لادن نے گیارہ ستمبر کے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے قریب ترین بیان دیا ہے۔

امریکہ میں تین دن بعد صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اسامہ نے وڈیو میں کہا کہ امریکیوں کی سلامتی کی ضمانت جارج بش اور نہ جان کیری دے سکتے ہیں بلکہ یہ امریکہ کی پالیسیوں پر منحصر ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ وڈیو اس بات کی یاد ہانی ہے کہ اسامہ ابھی موجود ہیں اور ایک خطرہ ہیں۔

وڈیو میں اسامہ سیدھے کیمرے میں دیکھتے ہوئے بڑے سکون سے بات کر رہے ہیں۔ وہ صحت مند نظر آرہے تھے۔

اسامہ بن لادن نے صدر بش پر الزام لگایا کہ انہوں نے امریکیوں کو گیارہ ستمبر کے بعد دھوکے میں رکھا ہے۔ انہوں نے کہا ’ گیارہ ستمبر کے چار سال بعد بھی صدر بُش آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور سچ نہیں بتا رہے، اور اس لیے جو کچھ ہوا اس کے دہرائے جانے کا جواز اب بھی موجود ہے‘۔

انہوں نے صدر بش پر نا اہلی کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ اگر وہ ہوشیار رہتے تو حملے اتنے شدید نہ ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ صدر بُش کی انتظامیہ ’کرپٹ عرب حکومتوں‘ کی طرح ہے۔

اسامہ نے بُش انتظامیہ کے طرف سے ان کے خلاف استعمال ہونے والے الفاظ ہی کو دہراتے ہوئے اپنا موقف بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ ارکان آزادی سے نفرت نہیں کرتے بلکہ ’ہم آزاد لوگ ہیں جو اپنی قوم کو دوبارہ آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ اگر تم ہماری سلامتی ختم کرتے ہو ہم تمہاری سلامتی ختم کریں گے‘۔

انہوں نے کہا انہیں امریکہ پر حملہ کرنے کا خیال پہلی بار انیس سو بیاسی میں اسرائیل کو لبنان پر قبضہ کرتے ہوئے دیکھ کر آیا تھا۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ وڈیو کب ریکارڈ ہوئی۔ الجزیرہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسے یہ فِلم جمعہ کو ملی تھی۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اسے کیسے مِلی۔

اسامہ بن لادن کا یہ وڈیو ٹیپ امریکہ میں انتخابات سے تین دن پہلے سامنے آیا ہے جب وہاں ووٹرز کو صدر بش اور جان کیری میں سے ایک کو منتخب کرنا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ ٹیپ بقیہ انتخابی مہم پر چھایا رہے گا۔ ڈیموکریٹ پارٹی کہے گی کہ ٹیپ واضح کرتا ہے کہ امریکہ کو نئے کمانڈر ان چیف کی ضرورت ہے جبکہ ریپیبلیکنز کہیں گے کہ صدر کی تبدیلی سے صرف دشمنوں کو آسودگی اور سکون حاصل ہوگا۔

مگر مبصرین کہتے ہیں کہ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ووٹرز پر اس ٹیپ کا کیا اثر ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد